خلع اور طلاق کا فرق بتائیں دوسرا یہ کہ اگر کسی سے جھگڑا جو کہ میاں بیوی کے درمیان ہوا اور بیوی اپنے خاوند سے طلاق کا کہتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ اچھا کیا تمہیں طلاق چاہیے اور اگر وہ نہیں بھی پوچھتا اور اسی جھگڑا کے دوران خاوند اپنی بیوی کو طلاق کہ دیتا ہے تو کیا یہ خلع تصور ہو گا یاطلاق کیونکہ دونوں صورتوں میں عدت میں فرق ہے۔
میاں بیوی کے درمیان باہمی رضامندی سے حق مہر کی معافی وغیرہ کے عوض ، لفظ خلع کے ذریعے نکاح ختم کرنے کو خلع جبکہ اسکے علاوہ صریح یا کنائی الفاظ سے شوہر کی طرف سے نکاح ختم کرنےکو طلاق کہا جاتا ہے، لہذ الڑائی جھگڑے کے دوران اگر شوہر بیوی کو طلاق دید یتا ہے، تو یہ خلع نہیں ، بلکہ طلاق ہی شمار ہو گی ، لیکن خلع اور طلاق کی عدت میں کوئی فرق نہیں، بلکہ دونوں کی عدت ایک ہی ہے ، البتہ خلع کے ذریعے چونکہ طلاق بائن واقع ہوتی ہے ، اس لئے دوران عدت رجوع نہیں کیا جا سکتا ہے۔
كما في الهندية : (أما تفسيره) شرعًا فَهو رفع قيد النكاح حالا أو مالا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق (348/1)
وفيه ايضاً: (وأما حكمہ) فوقوع الفرقة بالقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. وزوَالٌ حِلِ الْمَنَاكَحَةِ مَتَى تمَّ ثَلَاثًاكذا في محيط السرخسي
وفيه ايضاً: وحكمه وما يتعلق به الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وَقَدْ يَكُونُ بالفارسية كدا في الظهيرية (488/1)
وفيه ايضاً: إذا تشاق الزوجَانِ وخَافَا أَن لا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ تَفْتَدِي نَفْسَهَا مِنْهُ بِمَالٍ يَخْلَعُهَا بِهِ فَإِذَا فَعَلَا ذَلِكَ وَقَعَتْ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَلَزِمَهَا الْمَالُ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ (488/1)