السلام علیکم ! مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ ہمیں غسل جنابت کے لئے کتنالیٹر پانی استعمال کرنا چاہیئے ؟ تفصیل سے بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ حضرت محمد ﷺ غسل کے لئے کتنا لیٹر پانی استعمال کیا کرتے تھے ؟
واضح ہوکہ غسل کے پانی کی مقدار شرعاً متعین اور مخصوص نہیں ہے، بلکہ لوگوں کے احوال اور طبائع کے اختلاف کی وجہ سے جتنی مقدار سے کفایت ہو ، اس حد تک استعمال کی اجازت ہے ، البتہ جتنی مقدار غسل کے لئے کافی ہو ، اس سے زیادہ پانی استعمال کرنا اسراف ہے ، تاہم حضورﷺ کی عام عادت شریفہ غسل میں پانی کے استعمال میں ایک صاع (تقریباً 3.180 کیلو گرام) مروی ہے ، مگریہ مقدار غسل کے پانی کی کم سے کم مقدار ہے ، اگر کسی کو اس سے کم پانی غسل کے لئے کافی ہوتا ہو ، تو اس سے کم پر بھی اکتفاء کرسکتاہےاورجس کو اس مقدار سے زیادہ کی ضرورت پڑتی ہو وہ اس سے زیادہ بھی استعمال کرسکتاہے۔
کما فی الدر المختار : (ثم يفيض الماء) على كل بدنه ثلاثا مستوعبا من الماء المعهود في الشرع للوضوء و الغسل و هو ثمانية أرطال الخ
و فی رد المحتار : تحت (قوله : و هو ثمانية أرطال) أي بالبغدادي و هي صاع عراقي و هو أربعة أمداد (الیٰ قوله) (قوله : و قيل المقصود إلخ) الأصوب حذف قيل لما في الحلية أنه نقل غير واحد إجماع المسلمين على أن ما يجزئ في الوضوء و الغسل غير مقدر بمقدار و ما في ظاهر الرواية من أن أدنى ما يكفي الغسل صاع و في الوضوء مد للحديث المتفق عليه «كان - صلى الله عليه وسلم - يتوضأ بالمد و يغتسل بالصاع إلى خمسة أمداد» ليس بتقدير لازم ، بل هو بيان أدنى القدر المسنون قال في البحر: حتى إن من أسبغ بدون ذلك أجزأه و إن لم يكفه زاد عليه؛ لأن طباع الناس و أحوالهم مختلفة كذا في البدائع اهـ و به جزم في الإمداد و غيره اھ (1/158)۔