السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
مفتی صاحبان میرا بینک مجھے کریڈٹ کارڈ ادھار پے ادھار کی پیشکش کر رہا ہے ، اس پر بینک کی طرف سے کوئی سود نہیں ہے، بس اسٹارٹ میں وہ پراسنگ فیس لے رہے ہیں ، یہ پراسنگ فیس ادھار کی رقم کی فکس سیٹنج ہے جو کے سٹارٹ میں ادا ہو جاتی ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ پراسنگ فیس سود ہے یا نہیں ؟ رہنمائی کر دیں, بڑی مہربانی۔
کریڈٹ کارڈ کا استعمال عام حالات میں اور بلا ضرورت جائز نہیں، کیونکہ اس میں معاہدہ کے وقت صارف اس بات پر آمادہ ہوتا ہے کہ وہ لیٹ پیمنٹ کی صورت میں سود ادا کرے گا، اس لئے اس کے استعمال سے احتراز کیا جائے۔ البتہ اگر کسی نے انتہائی ناگزیر حال میں یہ کارڈ لیا ہو تو اسکا استعمال کسی بھی جگہ خریداری کے لئے اس شرط پر جائز ہے کہ جاری کردہ بلوں کی قیمت مقرّرہ مدت کے اندر ادائیگی کر دی جائے اور نقدی کے حصول کے وقت کوئی زائد ٹیکس نہ لیا جائے، کیونکہ زائد ٹیکس خدمات کی لاگت کے مقابلے میں نہیں، بلکہ قرض کے مقابلے میں ہو گا ،جو خالص سود ہے، جبکہ بینک سے کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت جو پراسیسنگ فیس ادا کرنا پڑتی ہے، اگر وہ بقدرِ عمل و اخراجات ہو تو اس کی ادائیگی جائز اور درست ہے اور اسکو سود میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
کما فی بحوث فقهيه: وعلى هذافان مصدر البطاقة لا يعدو تجاه حاصل البطاقة من ان يكون محتالا عليه اولاً ، ثم مقرضا له عند ما يسدد دينه الى التاجر ، فالجائز التي يقدمها مصدر البطاقة الى حاملها هي جائزة من قبل المقرض الى المستقرض، فهو تبرع محض لا قمار فيها ولا ربا (ج ٢ ص ١٦٣)۔
وفي الرد: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوی: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس اهـ . (٦٣/٦) ۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1