ترجمہ:میرے والد کا جولائی 2016میں انتقال ہوگیا، وہ ایک بنگلہ خریدنا چاہتے تھے ، جس کے لئے انہوں نے 2005 میں بیچنے والے کو سات لاکھ پچاس ہزار کا ایڈوانس جمع کرایا ، کچھ دنوں کے بعد بیچنے والے نے بنگلہ بیچنے سے انکار کر دیا ،اور اپنا ارادہ بدل دیا ، تو میرے والد نے بیچنے والے پر الزام لگایا، اتنی ہی رقم اور بیچنے والے نے میرے والد کو وعدہ خلافی کےعوض 15 لاکھ دیے،کیا یہ اضافی رقم جو تھی ،جو میرے والد نے اس سے لی ،حلال کی تھی یا نہیں۔
سائلہ کے والدِ مرحوم اور بنگلے کے مالک کے درمیان اگر بنگلے کی خریداری کا معاملہ طے نہ پایا ہو ،بلکہ اس کی طرف سے بنگلہ فروخت کرنے اور سائلہ کے والدمرحوم کی طرف سے بنگلہ خریدنے کافقط وعدہ کیا گیا ہو ، جس کے بعد سائلہ کے والدِمرحوم نے بنگلے کے مالک کو ایڈوانس رقم دے دی ہو تو ایسی صورت میں بنگلے کے مالک کے لئے وعدہ خلافی کرتےہوئے اپنی بات سے مکر جانا تو شرعاًجائز نہیں تھا،لیکن سائلہ کے والدِ مرحوم کا فقط وعدہ خلافی کی وجہ سے بنگلے کے مالک سے ایڈوانس جمع کرائی گئی رقم کے علاوہ مزید رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں تھا، لہذا سائلہ اور مرحوم کے دیگر ورثاء کے لئے اس اضافی رقم کو اپنے استعمال میں لانے کے بجائے کسی مناسب طریقے سے مذکور شخص یا اس کے موجود نہ ہونے کی صورت میں اس کے ورثاء کو واپس کردینا چاہیئے۔
کما فی مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی : إذن صحة الشرط الجزائي عن القول بعدم جواز بيع العربون كما صرح بذلك الدكتور السالوس من القول بأن الوعد ملزم ، هذا ليس مما حسمه قرار المجمع بشأن الوفاء بالوعد و المرابحة للآمر بالشراء ، لأن قرار المجمع أخص من الشرط الجزائي الذي يراد بحثه هنا فقرار المجمع يقول : الوعد ملزم للواعد ديانة إلا لعذر ، و هو أي الوعد ، ملزم قضاء إذا كان معلقًا على سبب و دخل الموعود في كلفة نتيجة الوعد ، و أثر الإلزام يتحدد بصورتين ، إما الوفاء بالوعد و تنفيذه ، و إما بالتعويض عن الضرر الواقع فعلًا بسبب عدم الوفاء بالوعد بلا عذر ، أقول : هذه صورة واحدة من الشرط الجزائي أقرت من المجمع ، بينما كلامنا في الشرط الجزائي الذي يستحقه المشترط عند عدم التزام المشترط عليه سواء كان هناك ضرر أم لا ، و سواء كان الضرر بقدر الشرط الجزائي أو أكثر ، و هذا يختلف عن التعويض عن الضرر الذي يتوقف على نقطتين :أولًا : إثبات أصل الضرر. اھ (12/652)۔
و في فقه البيوع : و الحالة الثانية : أن يدفع المبلغ في مرحلة المواعدة قبل انجاز البيع ، سواء سمي عربونا الخ و على هذا لو وقع العاقدان على اتفاقية البيع و لم يتم البيع بأن يكون انجازه موعوداً فى وقت لاحق ، أو عند توافر شرط من المشروط فان ما ید فعه المشترى إلی البائع حکمہ ما ذکرنا فی حکم ھامش الجدیۃ و یجب ردہ الی المشتری ان لم ینفذ العقد لسبب من الاسباب الخ (1281) -
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1