سود

سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

فتوی نمبر :
68669
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مالی معاوضات / سود

سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

السلام علیکم!
میں نے اپنے رشتہ دار کے ساتھ قرض کا معاہدہ اس طرح کیا تھا کہ میں نے اسے 30 تولہ سونے کے برابر قرضہ دیا , جس کی قیمت چالیس لاکھ (4000000) روپے تھی) اس شرط کے ساتھ کہ وہ قرض ادا کرے گا 15 تولہ سونا اور 15 تولہ سونے کے برابر نقد رقم ، 6 ماہ کے بعد 30 تولہ سونے کی قیمت ہو گئی چھپن لاکھ چالیس ہزار (5640000) روپے , اور اس طرح میرے رشتہ دار نے مجھے 15 تولہ سونا اور اٹھائیس لاکھ بیس ہزار (2820000) نقد رقم دی (اصل نصف قیمت بیس لاکھ (2000000) روپے تھی، میرے کچھ سوالات ہیں !

(1) کیا وہ لین دین حلال تھا اور جائز تھا؟


(2) اگر یہ حلال نہیں تھا، تو پھر سود کے طور پر کتنی رقم وصول کی گئی؟ آیا کل بڑھی ہوئی قیمت (گولڈ+کیش) جو کہ سولہ لاکھ چالیس ہزار (1640000) ہے ، سود ہے ؟ یا صرف بڑھی ہوئی نقد رقم جو آٹھ لاکھ بیس ہزار (820000) سود ہے ؟ جزاک اللہ۔



الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قرض دیتے وقت مقرض(قرض دہندہ) کا اس جنس کے علاوہ کسی دوسری جنس میں واپسی کی شرط لگانا شرعاً معتبر نہیں اور نہ ہی مقروض پر اس شرط کی پابندی لازم ہے ، چنانچہ صورتِ مسؤلہ میں سائل نے قرض دیتے وقت واپسی کی صورت میں آدھے حصہ کے بدلہ رقم لوٹانے کی جو شرط لگائی تھی ، مقروض پر اس کی پابندی شرعاً لازم نہیں تھی ، تاہم جب مقروض نے اس شرط کو قبول کرتے ہوئے قرض کی ادائیگی سونے اور پیسوں میں کردی تو شرعاً یہ معاملہ درست ہوچکا ہے، اگرچہ ادائیگی کے وقت مذکور سونے کی قیمت چالیس لاکھ کے بجائے چھپن لاکھ چالیس ہزار ہوگئی تھی، یہ معاملہ شرعاً سودی نہیں تھا، لہذا بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه و شرعا : ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه و هو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض و نحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة و هبة اھ(5/161)۔
و فی الشامیۃ : الديون تقضى بأمثالها اھ (6/525)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68669کی تصدیق کریں
1     1480
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات