السلام علیکم!
میں نے اپنے رشتہ دار کے ساتھ قرض کا معاہدہ اس طرح کیا تھا کہ میں نے اسے 30 تولہ سونے کے برابر قرضہ دیا , جس کی قیمت چالیس لاکھ (4000000) روپے تھی) اس شرط کے ساتھ کہ وہ قرض ادا کرے گا 15 تولہ سونا اور 15 تولہ سونے کے برابر نقد رقم ، 6 ماہ کے بعد 30 تولہ سونے کی قیمت ہو گئی چھپن لاکھ چالیس ہزار (5640000) روپے , اور اس طرح میرے رشتہ دار نے مجھے 15 تولہ سونا اور اٹھائیس لاکھ بیس ہزار (2820000) نقد رقم دی (اصل نصف قیمت بیس لاکھ (2000000) روپے تھی، میرے کچھ سوالات ہیں !
(1) کیا وہ لین دین حلال تھا اور جائز تھا؟
(2) اگر یہ حلال نہیں تھا، تو پھر سود کے طور پر کتنی رقم وصول کی گئی؟ آیا کل بڑھی ہوئی قیمت (گولڈ+کیش) جو کہ سولہ لاکھ چالیس ہزار (1640000) ہے ، سود ہے ؟ یا صرف بڑھی ہوئی نقد رقم جو آٹھ لاکھ بیس ہزار (820000) سود ہے ؟ جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ قرض دیتے وقت مقرض(قرض دہندہ) کا اس جنس کے علاوہ کسی دوسری جنس میں واپسی کی شرط لگانا شرعاً معتبر نہیں اور نہ ہی مقروض پر اس شرط کی پابندی لازم ہے ، چنانچہ صورتِ مسؤلہ میں سائل نے قرض دیتے وقت واپسی کی صورت میں آدھے حصہ کے بدلہ رقم لوٹانے کی جو شرط لگائی تھی ، مقروض پر اس کی پابندی شرعاً لازم نہیں تھی ، تاہم جب مقروض نے اس شرط کو قبول کرتے ہوئے قرض کی ادائیگی سونے اور پیسوں میں کردی تو شرعاً یہ معاملہ درست ہوچکا ہے، اگرچہ ادائیگی کے وقت مذکور سونے کی قیمت چالیس لاکھ کے بجائے چھپن لاکھ چالیس ہزار ہوگئی تھی، یہ معاملہ شرعاً سودی نہیں تھا، لہذا بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کما فی الدر المختار : فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه و شرعا : ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه و هو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض و نحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة و هبة اھ(5/161)۔
و فی الشامیۃ : الديون تقضى بأمثالها اھ (6/525)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1