کیا PLS بینک اکاونٹ جو کہ تنخواہ کے لیے کھولا جاتا ہے پر جو تھوڑا بہت منافع ملتا ہے اسے تلف کرنے کی عرض سے کسی مسلمان کو دیا جاسکتا ہے؟
کسی بھی سودی بینک میں پی ایل ایس اکاونٹ کھلوانے کی صورت میں اکاونٹ میں موجود رقم پر جواضافی رقم ملتی ہے، وہ شرعا سود کے زمرمیں آتاہے، اس لیے دوسرے لوگوں کی مدد کی خاطراپنے آپ کو گناہ کبیرہ میں مبتلا کرنا کوئی بھی علقمندی نہیں، اور نہ ہی شریعت اس کی اجازت دیدیتی ہے۔ اس لیے کسی بھی سودی بینک میں پی ایل ایس سمیت کوئی بھی سودی اکاونٹ کھلوانا شرعاجائز نہیں۔ اور اگر کسی نے لاعلمی اس طرح کیا ہو، تو اسے فورا اپنا یہ اکاونٹ کرنٹ اکاونٹ میں تبدیل کرنا چاہیے تاکہ مزید گناہ سے بچاجاسکے۔
قال اللہ سبحانہ وتعالی فی القرآن الکریم: (البقرة، الایة: 278)
یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَo
صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1598)
عن جابر -رضي اﷲ عنہ- قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔
رد المحتار: (99/5، ط: دار الفکر)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1