ایزی پیسہ میں پیسے رکھ کر اسکے بدلے میں منافع آتا ہے مثلاً 1500 روپے رکھنے سے سال بعد 16000 ملتے ہیں کیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟
واضح ہوکہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں رکھی جانے والی رقم کی حیثیت شرعاً قرض کی ہوتی ہے، اور قرض پر کسی قسم کا معروف یا مشروط نفع حاصل کرنا شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے، لہذا ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے رکھ کر نفع حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن اھ(مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج5،ص166،ط:سعید)۔
وفی ردالمحتار: وفي الخانية: رجل استقرض دراهم وأسكن المقرض في داره، قالوا: يجب أجر المثل على المقرض؛ لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضا عن منفعة القرض لا مجانا(ج6،ص63،ط:سعید)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1