بینک سے منافع کے طور پر ملنے والی سودی رقم کو کیا بغیر ثواب کی نیت سے کسی دینی ادارے میں دے سکتے ہیں اگر دے سکتے ہیں تو یہ رقم کس مد میں جمع کروائی جائے گی؟؟ براہ مہربانی جواب جلد مطلوب ہے
اولا تو سودی بینک میں ایسا اکاونٹ کھلوانا جائز نہیں، جس سے سودی رقم حاصل ہو، تاہم اگر کسی نے لاعلمی میں اس طرح کیاہو، تواسے فی الفور سودی بینک میں سیونگ اکاونٹ بندکروا کر کرنٹ اکاونٹ مٰیں تبدیل کرونا لازم ہے۔
جبکہ سود کی مد میں جورقم مل جائے ، تو اگر اس کا اصل مالک معلوم ہو، تو یہ رقم اس تک پہنچانا ضروری ہے، ورنہ اسےبغیر نیت ثواب کسی ضرورت مند اور مسحق زکوۃ لوگوں میں تقسیم کرنا چاہیے، اور اگر یہ رقم مدرسہ میں دینا چاہے، تو اسے مدرسہ کے مستحق طلبہ کے اخراجات میں صرف کرنا ضروری ہے۔
رد المحتار: (مَطْلَبٌ فِيمَنْ وَرِثَ مَالًا حَرَامًا، 99/5، ط: سعید)
"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه".
و فیہ ایضاً: (385/6، ط: دار الفکر)
أن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اه۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1