کیا مجبوری کی حالت میں سود دینے سے اِنکم حرام ہو گی؟ البتہ سود نہ لیا ہو۔
واضح ہو کہ عام حالات میں سودی لین دین قرآن اور احادیث ِ مبارکہ کی صریح نصوص سے شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے ہر مسلمان کو بچنا لازم ہے، البتہ اگر کسی نے سودی قرضہ لے کر اس رقم سے حلال کاروبار شروع کرلیا ہو تو اس سے حاصل ہونے والے منافع کو حرام نہیں کہا جاسکتا، تاہم آئندہ کے لئے سودی لین دین سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی صحیح مسلم: "عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: هم سواء . رواه مسلم. اھ ( کتاب المساقات ج 3 ص 1219، ط: دار احیاء التراث)۔
وفی رد المحتار:(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه اھ(166/5)۔
وفی الاشباہ والنظائر: ""السادسة: الحاجة تنزل منزلة الضرورة، عامةً كانت أو خاصةً (الی قولہ) وفي القنية والبغية: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح (انتهى) الخ (الفن الاول، القاعدة الخامسة، ص: 93، ط:قدیمی)۔
وفی الھندیۃ: غصب حانوتا واتجر فيه وربح يطيب الربح كذا في الوجيز للكردري. الخ ( ج 5 ص 142 ط: سعید)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1