سود

قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

فتوی نمبر :
69433
| تاریخ :
2023-11-27
معاملات / مالی معاوضات / سود

قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں نے ایک مجبوری کی وجہ سے ایک صاحب سے قرض لیا تھا ، اس نے مجھ سے یہ بات کی تھی کہ آپ جلد واپس کردیں تو میں آپ سے پانچ لاکھ ہی لونگا اور اگر زیادہ دن گزر گئے تو چھ لاکھ لونگا ، تو کیا ایسی صورت میں مجھ پر لازم ہے کہ ان کےقرضہ کے اوپر مزید رقم دوں ؟اور اگر وہ زبردستی مانگیں یا زبردستی لیں تو میرے لئے کیاحکم ہے ؟جوبھی شرعی حکم ہوتحریرفرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کےمطابق سائل کا مذکورشخص سےاس شرط پر قرضہ لینا کہ قرض کی واپسی میں مقررہ وقت سے تاخیر کی صورت میں مزید ایک لاکھ روپے دینا لازم ہوگا ، صریح سودی معاملہ ہے ، جس کی وجہ سے دونوں سخت گناہگار ہوئے ہیں ، جس پر دونوں کو بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کےلئےسودی معاملات سے اجتناب لازم ہے ، جبکہ مذکور شرط شرعاً معتبر نہیں ، بلکہ سائل کے ذمہ فقط اصل قرض ( پانچ لاکھ روپے ) کی ادائیگی لازم ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ : یَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ اٰمَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَ ذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤمِنِينَ (٢٧٨) فَإِن لَّم تَفعَلُواْ فَأذَنُواْ بِحَربٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ إِن تُبتُم فَلَكُم رُءُوسُ أَموَٰلِكُم لَا تَظلِمُونَ وَ لَا تُظلَمُونَ (٢٧٩) وَ إِن كَانَ ذُو عُسۡرَةٖ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيسَرَةٖ وَ أَن تَصَدَّقُواْ خَير لَّكُم إِن كُنتُم تَعلَمُونَ .(سورۃ البقرۃ،اٰیت: (280)۔
و فی مشکاۃ المصابیح : عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا ، وَ مُؤْكِلَهُ ، وَ كَاتِبَهُ ، وَ شَاهِدَيْهِ ، وَ قَالَ : «هُمْ سَوَاءٌ» (243/1)۔
و فی الدر المختار : و في الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن۔۔الخ ،
و رد المحتار تحت (قوله ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر ، و عن الخلاصة و في الذخيرة و إن لم يكن النفع مشروطا في القرض ، فعلى قول الكرخي لا بأس به ۔(5/166)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69433کی تصدیق کریں
0     1845
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات