السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
جناب مفتی صاحب ! کیا انڈیا کے بینک سے ملنے والا سود کسی مؤمن کو قرض کی ادائیگی کے لئے دیا جاسکتاہے ؟
راجح اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق کسی بھی ملک ( خواہ وہ دار الحرب کیوں نہ ہو ) میں سودی لین دین اور سود وصول کرنا نصوصِ قطعیہ کی رو سے ناجائز اور حرام ہے ، اور اگر کسی نے جان بوجھ کر یا لاعلمی میں بھی سودی معاملہ کرکے سودی رقم حاصل کی ہے تو اسے بلانیتِ ِثواب ، مستحقِ ِ زکوٰۃ کو دینا لازم ہے ، لہذا انڈیا سمیت کسی بھی ملک کے رہنے والے مسلمان شخص کے لئے سودی معاملہ کرکے سودی رقم حاصل کرنا اور پھر اسے ادائیگیِ ِقرض میں خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے ۔
قال اللہ تعالی : یٰایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ و ذروا مابقی من الربوٰا ان کنتم مؤمنین۔ الاٰیۃ ( سورۃ البقرۃ ، آیت 278 )۔
و فی فتح القدیر : ( قولہ و لا بین المسلم و الحربی فی دار الحرب خلافا لابی یوسف و الشافعی ) و مالک و احمد ( الی قولہ ) یحل کل ذلک عند ابی حنیفۃ و محمد خلافاً لابی یوسف و من ذکرنا ( الی قولہ ) و ھذا الحدیث غریب و نقل ما روی مکحول عن النبی ﷺ انہ قال ذلک ( الی قولہ ) قال الشافعی و ھذا الحدیث لیس بثابت و لاحجۃ فیہ الخ ( ج : 6 ص : 177 ، 178 )۔
و فی رد المحتار تحت : ( قولہ و الحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم ، و الا فان علم عین الحرام لایحل لہ و تصدق بہ بنیۃ صاحبہ الخ ( ج : 6 ص : 387 )۔
و فی فقہ البیوع : و قد وقع الیوم شبہ الاتفاق بین العلماء الحنفیۃ علی الافتاء بمذھب ابی یوسف و الجمھور ، و علی انہ یحرم الربا فی کل حال ، سواءٌ أ کان العقد مع مسلم أم حربی ، فلا بنبغی ان یتمسک بقول ابی حنیفۃ و محمد رحمھما اللہ تعالی فی ھذا الباب الخ ( ج ؛ 2 ، ص ؛ 771 )۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1