میں ایک سرکاری ملازمہ ہوں اسکے علاوہ میں نے کچھ لوگوں سے یہ کہہ کر رقم لی کہ میں کاروبار میں لگاؤ ں گی ،اس وقت میں دراز نامی ایک ویب سائٹ پر کام بھی کرتی تھی اور ایمیزان کی طرف جانے کا ارادہ تھا اسکے علاوہ میرے شوہر نے مجھے کچھ رقم دی تھی ،جس میں سے مجھ سے 70 فیصد رقم مختلف گھریلو معاملات میں خرچ ہو گئی جس کا میرے پاس صحیح حساب بھی نہیں تھا , اس وجہ سے میں نے یہ سو چا کہ کارو بار کو بڑھایا جائے اور اس رقم کو حاصل کیا جائے تاکہ گھریلو معاملات خراب نہ ہوں میں نے لوگوں سے رقم لی کہ میں کاروبار میں لگاؤں گی , اور کیونکہ میں ایک , اچھے گھر سے تعلق رکھتی تھی اور ادارے میں میری اچھی عزت تھی ، تو ,سب نے مجھے خوشی سے رقم دے دی ، میں نے انہیں کہا کہ میں آ پ لوگوں کو 3 فیصد یا اس سے ذیادہ منافع ہر مہینے ادا کروں گی , اس سب کو میں نے انہیں سرکاری کاغذ پر لکھ کر دیا ،اور میری نیت بھی ایسا ہی کرنے کی تھی ، اور میں نے یہ بھی سو چا تھا کہ ,شو ہر پوچھیں گے تو ان سے کہہ دو ں گی کہ رقم کاروبار میں لگی ہے ، اور جن سے لی ہے انہیں بھی اس میں سے منافع دیتی رہوں گی ،لیکن ایسا نہ ہوسکا میرا دن بدن کاروبار ملکی حالات اور ناتجربہ کاری یا لا پر و اہی کی نظر ہو تا گیا اور مجھے جن کو ہر مہینے پیمنٹ کرنی ہوتی تھی ان کے لئے مجھے ہر مہینے مزید لوگوں سے پیسے لینے پڑتے اور بس میں ایک طرف سے لیکر دوسری طرف ادا کرتی , اس طرح میں بہت قرض دار ہوتی گئی ، اس دوران میں نے کاروبار کرنے کی بھی کوشش کی لیکن کچھ نہیں کر پائی پریشانی میں پیسوں کا نقصان ہوا یا دھو کہ ملا اس سے پہلے میں جن لوگوں کو منافع کے نام پر رقم د یتی رہی ان کی وجہ سے مزید لوگ مجھے ہر مہینے پیمنٹ کرتے سب کچھ اچھی طرح چل رہا تھا لیکن مجھ پر قرضہ لاکھوں کے حساب سے چڑھ گیا پھر میں نے فیصلہ کیا کہ ان سب کو ختم کرنا چاہئے تو میں نے ان سب کو کہا کہ میں جو کاروبار کرتی تھی اس میں مجھے دھو کہ ہو ا ہے اور اب میں آپ سب کو اگلے مہینے سے کوئی منافع نہیں دوں گی میرے پاس کچھ نہیں ہے میں بلکل خالی ہو گئی ہوں ، لیکن میں آہستہ آہستہ آپ سب کی رقم واپس کر دونگی ،لیکن اس بات پر کوئی راضی نہ ہو ا سوائے ایک دو کے اور سب نے فورا ا پنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کردیا اور ساتھ میں مجھے بھی دھمکیاں دیں میں نے اپنے کچھ رشتہ داروں سے قرض لے کر کافی لوگوں کی رقم ادا کر دی لیکن ابھی جن کی باقی ہے وہ لوگ مجھے بلکل وقت نہیں دے رہے روزانہ مجھے فون کرکے ذ ہنی ٹا ر چر کرتے ہیں ،میں شدید قسم کے ذہنی دباو کا شکار ہوں ،کبھی کبھی لگتا ہے کہ دماغ کی نس پھٹ جائے گی اور اس بات سے بھی ڈر لگتا ہے کہ شوہر کو اگر پتہ چلا تو نہ جانےکیا ہوگا وہ دل کے مریض ہیں اس لئے میں انہیں کوئی ٹینشن نہیں د یتی سب کچھ خود برداشت کر رہی ہوں ان تمام حالات کی روشنی میں میں جانتی ہوں کہ مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو ا ہے اگر چہ میری نیت نہیں تھی ،لیکن میں ایک طرح کے سود میں ملوث ہو گئی تھی میں نے اللہ سے بھی معافی مانگی ہے آپ سے یہ سوال ہے کہ مجھے ان لوگوں کی رقم واپس کرنے کے لئے صرف سو د پر قرض مل رہا ہے اور ہی لوگ مجھے بلکل بھی وقت نہیں دے رہے کیا ان حالات میں میرے لئے جائز ہے کہ میں سود پر قرض حاصل کر کے ان لوگوں کی رقم واپس کر دوں اب جب کہ بات میری عزت اور جاب پر آگئی ،ہے اور شوہر کو بھی پتہ چلا تو وہ بھی یا تو اپنا نقصان کرے گا ،جبکہ میرا میرے شو ہر کا تعلق پٹھان فیملی سے ہے آپ کو سب تفصیل سے آگاہ کردیا گیا ہے ،مجھے میرے حالات کی روشنی میں جواب درکار ہے مہربانی ہوگی۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کیلئے مذکور طریقہ کار کے مطابق لوگوں سے رقم لینا خیانت اور دھوکہ دہی پر مبنی عمل تھا ، جسکی وجہ سے سائلہ گناہ گار ہوئی ہے ، جس پر سائلہ کو بصدق دل توبہ واستغفار اور آئندہ کیلئے ایسے کاموں سےمکمل اجتناب لازم ہے ، جبکہ سائلہ کے ذمہ لوگوں کے جو رقوم واجب الاداء ہیں، اس کی ادائیگی کیلئے مزید سودی قرضے لینا دانشمندانہ عمل نہیں ،بلکہ سائلہ کو چاہیئے اپنے پاس موجود غیر ضروری سازوسامان فروخت کرکے اور اپنے اخراجات میں کمی اور بچت میں اضافہ کرکے واجب الاداء رقوم کی ادائیگی کا اہتمام کرے اور اسکے ساتھ ساتھ ، اللہ تبارک وتعالیٰ سےان رقوم کی ادائیگی کیلئے دعاؤں کا بھی اہتمام کرتی رہی ، ان شاءاللہ امید ہے کہ جلد اس ذمہ داری ے سبکدوشی حاصل ہوجائے گی،جبکہ سود پر قرضہ لینے کے بجائے اگر سائلہ مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شرعیہ بورڈ کے زیر نگرانی شرعی وصولوں کے مطابق اپنے معاملات انجام دینے والے کسی غیر سودی ادارے کیساتھ کوئی معاملہ کرکے فوری طور پر قرضوں کی واپسی کا کوئی انتظام کرے توشرعاً اس کی بھی گنجائش ہے۔
کما فی صحیح مسلم : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا ، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ : «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ» ؟ فَقَالَ : أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ» ثُمَّ قَالَ: «مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا» اھ(289)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1