ہاؤس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن والوں کا قرضہ برائے مکان دینے کا جو طریقہ کار ہے، وہ اسلامی رو سے جائز ہےیا سود کے زمرے میں آتا ہے؟
ہماری معلومات کے مطابق ہاؤس بلڈنگ فائنانس میں چونکہ سود کی بنیاد پر صارفین کو سودی قرضہ دیا جاتا ہے،اس لئے ایسا قرضہ لینا کسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں،البتہ اس معاملہ کے جواز کی ایک صورت ممکن ہے وہ یہ کہ:
کوئی بینک یا فرد ایسا ہو جو سود پر رقم دینے کے بجائے پہلے خود گھر خرید کر اس کا مالک بن جائے،پھر گھر کو منافع کے ساتھ قسطوں پر ادھار فروخت کردے،اور قسطوں پر فروخت کرنے میں مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھےتو یہ معاملہ شرعاً جائز ہوگا۔
1)۔بینک گھر خرید کر اپنے قبضہ میں لے چکا ہو،اور پھر وہ دوسرے عقد کے ذریعے کسٹمر کو فروخت کرے۔
2)۔اول عقد میں ہی یہ طے کیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
3)۔ہر قسط کی مالیت طے کرلی جائے،یہ بھی طے کیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہیں۔
4)۔کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ عائد نہ ہوتا ہو۔
سائل کو بھی سود پر قرض لینے کے بجائے مندرجہ بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے کسی ایسے بینک یا فرد سے مکان خریدنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
قال اللہ تعالیٰ: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (سورۃ البقرۃ: 275)۔
وفی تفسیر ابن کثیر: شرع في ذكر أكلة الربا وأموال الناس بالباطل وأنواع الشبهات، فأخبر عنهم يوم خروجهم من قبورهم وقيامهم منها إلى بعثهم ونشورهم، فقال: (الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس) أي: لا يقومون من قبورهم يوم القيامة إلا كما يقوم المصروع حال صرعه وتخبط الشيطان له؛ وذلك أنه يقوم قياما منكرا. وقال ابن عباس: آكل الربا يبعث يوم القيامة مجنونا يخنق. رواه ابن أبي حاتم، قال: وروي عن عوف بن مالك، وسعيد بن جبير، والسدي، والربيع بن أنس، ومقاتل بن حيان، نحو ذلك.(ج1،ص708،ط: دار طيبة للنشر والتوزيع)۔
وفی سنن الترمذی: عن ابن مسعود قال: "لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه" (باب ما جاء في أكل الربا،رقم الحدیث 1206،ط: مصطفى البابي الحلبي)۔
وفی دررالحکام : البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح،يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط (المادة245،246،ط: دار الجيل)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1