کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عصر کی نماز میں سنت (قبل از عصر) دانستہ چھوڑ دینا، فضول کاموں میں ٹائم ضائع کرنا، مگر عصر کی نماز کی سنت نہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر تو کہا جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ کون سے عالم کا فتویٰ ہے کہ کیا عصر کی سنت نہ پڑھنا گناہ ہے، مگر ان سے کہا جائے کہ سنت نماز نمازِ عصر کا حصہ ہے اور آپ اسوۂ حسنہ میں دکھاؤ کہ عصر کی سنت کیوں چھوڑی گئی ہے؟ آپ تو وقت ضائع کرتے ہو، مگر سنت نماز نہیں پڑھتے ہو، تو پھر وہ بضد ہے کہ عالم کا فتویٰ دکھاؤ، آپ یہ بتائیں کہ سوۂ حسنہ پر فتویٰ کو فوقیت دینا کیسا ہے؟ براہِ کرم جواب ضرور دیں، ورنہ غلط نظریات کا تدارک نہیں ہو پائےگا، اورآپ نے بھی اللہ کو جواب دینا ہوگا۔
واضح ہو کہ عصر کی نماز سے قبل چار رکعت پڑھنا سنت مؤکدہ نہیں، بلکہ مستحب عمل ہے، جس کے پڑھنے میں ثواب ہے اور نہ پڑھنے میں کوئی گناہ نہیں، لہٰذا اس وقت اگر کوئی شخص فارغ ہو، تو اُسے اپنا وقت کھیل کود اور فضولیات میں ضائع کرنے کے بجائے سنتیں پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی عصر کی نماز سے قبل سنتین نہ پڑھے، تو چونکہ اس کے نہ پڑھنے والا شرعا متحق ملامت نہیں، اس لیے کسی بھی شخص کو اس کے ساتھ سختیی سے پیش آنے کا کوئی حق نہیں، لہٰذا سائل کو بھی چاہیے کہ اس سلسلہ میں اپنا رویہ نرم رکھے، جبکہ فتویٰ اور اسوۂ حسنہ دو متضاد چیزیں نہیں ہیں، بلکہ فتویٰ میں اسوۂ حسنہ کی تشریح اور حیثیت متعین کی جاتی ہے، اس لیے سائل کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
ففی المبسوط للسرخسي: (فأما قبل العصر فإن تطوع بأربع ركعات فهو حسن) لحديث أم حبيبة - رضي الله تعالى عنها - قالت قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «من صلى قبل العصر أربع ركعات كانت له جنة من النار» ولا تطوع بعدها اھ (1/ 156)
وفی الدر المختار: ويستحب أربع قبل العصر اھ (2/ 13)
وفی حاشية ابن عابدين: قال في الإمداد: وحكمه الثواب على الفعل وعدم اللوم على الترك. اهـ. (إلی قوله) وهل يكره تنزيها، في البحر لا اھ (1/ 123)
وفی أصول الإفتاء وآدابه: المفتی وارث الأنبیاء وقائم بفرض الکفایة (إلی قوله) إنما هو تبیین لما شرع اللہ لعباده من شرائع الإسلام لحیاتهم الفردیة والإجتماعیۃ اھ (ص: ۱۶) واللہ أعلم بالصواب!
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0