نوافل

عصر سے پہلے کی سنتیں دانستہ چھوڑنے کا حکم

فتوی نمبر :
42485
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نوافل عبادات / نوافل

عصر سے پہلے کی سنتیں دانستہ چھوڑنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عصر کی نماز میں سنت (قبل از عصر) دانستہ چھوڑ دینا، فضول کاموں میں ٹائم ضائع کرنا، مگر عصر کی نماز کی سنت نہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر تو کہا جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ کون سے عالم کا فتویٰ ہے کہ کیا عصر کی سنت نہ پڑھنا گناہ ہے، مگر ان سے کہا جائے کہ سنت نماز نمازِ عصر کا حصہ ہے اور آپ اسوۂ حسنہ میں دکھاؤ کہ عصر کی سنت کیوں چھوڑی گئی ہے؟ آپ تو وقت ضائع کرتے ہو، مگر سنت نماز نہیں پڑھتے ہو، تو پھر وہ بضد ہے کہ عالم کا فتویٰ دکھاؤ، آپ یہ بتائیں کہ سوۂ حسنہ پر فتویٰ کو فوقیت دینا کیسا ہے؟ براہِ کرم جواب ضرور دیں، ورنہ غلط نظریات کا تدارک نہیں ہو پائےگا، اورآپ نے بھی اللہ کو جواب دینا ہوگا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عصر کی نماز سے قبل چار رکعت پڑھنا سنت مؤکدہ نہیں، بلکہ مستحب عمل ہے، جس کے پڑھنے میں ثواب ہے اور نہ پڑھنے میں کوئی گناہ نہیں، لہٰذا اس وقت اگر کوئی شخص فارغ ہو، تو اُسے اپنا وقت کھیل کود اور فضولیات میں ضائع کرنے کے بجائے سنتیں پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی عصر کی نماز سے قبل سنتین نہ پڑھے، تو چونکہ اس کے نہ پڑھنے والا شرعا متحق ملامت نہیں، اس لیے کسی بھی شخص کو اس کے ساتھ سختیی سے پیش آنے کا کوئی حق نہیں، لہٰذا سائل کو بھی چاہیے کہ اس سلسلہ میں اپنا رویہ نرم رکھے، جبکہ فتویٰ اور اسوۂ حسنہ دو متضاد چیزیں نہیں ہیں، بلکہ فتویٰ میں اسوۂ حسنہ کی تشریح اور حیثیت متعین کی جاتی ہے، اس لیے سائل کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی المبسوط للسرخسي: (فأما قبل العصر فإن تطوع بأربع ركعات فهو حسن) لحديث أم حبيبة - رضي الله تعالى عنها - قالت قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «من صلى قبل العصر أربع ركعات كانت له جنة من النار» ولا تطوع بعدها اھ (1/ 156)
وفی الدر المختار: ويستحب أربع قبل العصر اھ (2/ 13)
وفی حاشية ابن عابدين: قال في الإمداد: وحكمه الثواب على الفعل وعدم اللوم على الترك. اهـ. (إلی قوله) وهل يكره تنزيها، في البحر لا اھ (1/ 123)
وفی أصول الإفتاء وآدابه: المفتی وارث الأنبیاء وقائم بفرض الکفایة (إلی قوله) إنما هو تبیین لما شرع اللہ لعباده من شرائع الإسلام لحیاتهم الفردیة والإجتماعیۃ اھ (ص: ۱۶) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 42485کی تصدیق کریں
0     1103
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نماز عشاء میں وتر کے بعد دو نفل پڑھنا

    یونیکوڈ   اسکین   نوافل 0
  • گاڑی میں بغیر جہت قبلہ کے نفل نماز پڑھنا

    یونیکوڈ   اسکین   نوافل 0
  • صلاۃ التسبیح جماعت کے ساتھ ادا کرنا

    یونیکوڈ   نوافل 1
  • کیا نفل نماز دو رکعات کے بجائے چار رکعات پڑھی جاسکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • شبینہ یا قیام اللیل کی جماعت کا اہتمام کرنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • ’’یا ساریۃ الجبل‘‘ والا واقعہ کی تحقیق

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • عناصر اربعہ سے انسان کی تخلیق کا نظریہ

    یونیکوڈ   نوافل 1
  • مولانا عبید اللہ سندھی کے خیالات و نظریات

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • کن کن اعمال کا ایصالِ ثواب ، مردوں کو کیا جاسکتا ہے

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • اپریل فول منانے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • محرم یا صفر میں کوئی کاروبار، نیا کام یا سفر وغیرہ کرنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • اشراق، تہجد، اوابین پر دوام کرنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • خلافت ،وزارت اور نیابت میں تقرری کا اختیار- سورۃ الرعد کی آیت نمبر ۴۳ کی تفسیر

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • صلوۃ الحاجت کا طریقہ

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا- شوال کے چھ روزے رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • کیا طواف کے دوران حطیم میں نفل نماز پڑھ سکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • تہجد کا وقت اور تہجد کی رکعات

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • نمازِ تہجد کا افضل وقت

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • نفل نماز ایک سلام کے ساتھ دو رکعت سے زیادہ پڑھنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • ایک سلام کے ساتھ بارہ رکعت نفل پڑھنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • نفلی عبادات کا شروع کرنے سے لازم ہوجانا- قربانی کے جانور کاگم ہو جانا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • بارہ ربیع الاول کو روزہ رکھنےکا حکم

    یونیکوڈ   نوافل 1
  • سنن و نوافل ترک کرنے کی عادت بنا لینا

    یونیکوڈ   نوافل 0
Related Topics متعلقه موضوعات