میرے سوالات غسل سے متعلق ہیں،براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں!
(1) غسل میں جب ہم جسم پر پانی بہاتے ہیں،اس دوران اگر ریح خارج ہوجائے یا پیشاب آجائے اور پیشاب کرلیں تو کیا غسل دوبارہ کریں گے یا پانی بہانا جاری رکھیں گے؟(2) اگر پاؤں کی انگلیوں میں خلال کرنا بھول گئے تو کیا غسل ہوگا یا نہیں؟(3) میں نے کسی سے سنا ہے کہ غسل کے وضو سے نماز پڑھ سکتے ہیں،لیکن اگر غسل کے بعد شرمگاہ کو ہاتھ لگ گیا تو وضو ٹوٹ جائیگا،کیا شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
(1)غسل کے دوران جسم کے کچھ حصہ پر پانی بہانے کے بعد اگر ریح خارج ہوجائے یا پیشاب کرلے،تو جسم کے بقیہ حصہ پر پانی بہالینے سے غسل مکمل ہوجائیگا،از سر نو غسل کرنے کی ضرورت نہیں،البتہ اس غسل کے بعد نماز وغیرہ پڑھنے سے قبل وضو کرنا لازم ہوگا۔
(2) اگر انگلیاں ایسی ملی ہوئی ہوں کہ خلال کیے بغیر انگلیوں کے درمیان پانی نہ جاتا ہو تو خلال کرنا لازم ہےورنہ نہیں۔
(3) جی ہاں! غسل کے وضو سے نماز پڑھ سکتے ہیں،جبکہ شرمگاہ کو محض ہاتھ لگ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
کمافی التاتارخانیۃ: الغائط یوجب الوضوء قل أو کثر وکذلک البول، وکذلک الریح الخارجۃ من الدبر الخ(1/231 )۔
وفیھا أیضاً: وتخلیل الاصابع إن کانت مضمومۃ وتوضأ من الاناء فرض، وإن کانت مفتوحۃ فترک التخلیل جاز الخ(1/206)۔
وفیھا أیضاً: ولومس الذکر لاینقض الوضوء بحال، ولاوضوء علی من مس شیئا من بدنہ،والمس کلہ لایوجب نقض الوضوء (1/26)۔