غسل واجب تھا ، پر یاد نہ ہونے کی وجہ سے نیت نہیں کی ، لیکن غسل کرلیا اور آخر میں وضو یا صرف وضو کے فرائض ادا کیے ، کافی دیر بعد یاد آیا تو کیا غسل ہوجائے گا یا دوبارہ غسل کرنا پڑے گا ؟ اضافہ کرتا چلوں کہ آفس جانے سے پہلے روزانہ غسل کرتا ہوں اور یہ نیت ہوتی ہے کہ پاکی یا صفائی ستھرائی رہے۔
واضح ہو کہ غسل کی صحت کیلۓ نیت کرنا کوئی لازم نہیں ، بلکہ اس کے بغیر بھی غسل ہوجاتا ہے ، لہٰذا سائل نے غسل کرنے سے قبل یا اس کے بعد اگر کلی کی تھی اور ناک میں پانی ڈال دیا تھا ، تو ایسی صورت میں سائل نے اگرچہ غسل کی نیت نہ کی ہو ، تب بھی غسل ہوچکا ہے، اب دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔
كما فی الشامیة : و سننه كسنن الوضوء سوی الترتیب (و قوله كسنن الوضوء) ای من البداعة بالنیة و التسمیة و السواك و التحلیل و الدلك و الولاء . اهـ (ج۱، ص۱۵۶)۔
و فی الهندیة : و ههنا سنن و آداب ذكرها بعض المشايخ يسن أن يبدأ بالنية بقلبه و يقول بلسانه نويت الغسل لرفع الجنابة أو للجنابة ثم يسمى الله تعالى عند غسل اليدين ثم يستنجى كذا في الجوهرة النيرة الخ (ج۱، ص۱۷)۔
و فی الفقه الحنفی و أدلته : فرض الغسل المضمضة و الاستنشاق و غسل جمیع البدن و سنن الغسل البداءة بالتسمیة و النیة لیكون فعله قربة ثیاب علیه . اهـ (ج۱، ص۶۳)۔