ایک لڑکی کا نکاح ہواجس میں اس کی رخصتی نہیں ہوئی اور نہ ہی خلوت میں کبھی ملے ہیں تو لڑکی کی طرف سے عدالتی خلع کاکیس ہوا جس پر اس کےخاوند نےبھی طلاق کا سائن کردیا کیا اب دوبارہ نکاح ہوسکتاہے؟
مذکور عدالتی خلع کے کاغذات پر اگر شوہر نے اپنی مرضی سے دستخط کئے ہوں تو اس سے اسکی پر بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہو چکا ہے اب رجوع تو نہیں ہو سکتا ،البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو اسکے لئے نئے حق مہر کےتقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرنالازم ہو گا تاہم اس تجدید نکاح کے بعد شوہر کے پاس آئندہ کیلئے دو طلاق کا اختیار ہو گا اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
كما في الہندية: الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقديصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية وشرطه شرط الطلاق وحكمه وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين وتصح نية الثلاث فيه ولوتزوجها مرارا وخلعها في كل عقد عندنا لا يحل له نكاحها بعد الثلاث قبل الزوج الثاني --- إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية اهـ - (١/ ٤٨٨)
و في التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ویستحق علیھا العوض الخ (3/453)۔