میری بیٹی نے جولائی 2013 میں اپنے شوہر سے خلع لیا ہوا تھا، خلع کورٹ کے ذریعہ ہوا، اس نے زبانی طلاق یا تحریری طور پر کچھ نہیں لکھا، وہ فیصلہ کے دن موجود نہیں تھانا کورٹ آتا تھا، جبکہ وہ دل سے راضی تھا اور چاہتا تھا خلع ہو جائے تاکہ حق مہر کی ادائیگی نہ ہو، اس نے نا کبھی رجوع کیا نابیٹی اور اس کے بچے کا نفقہ دیا، آپ سے سوال ہے کہ سات سال بعد میری بیٹی کو خلع ہو چکا ہے کیا وہ اب بھی اس کے نکاح میں ہے ؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے صحیح ہونے کیلیے فریقین کی باہمی رضامندی اور با قاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے، جبکہ عموما یہ شرط عدالتی خلع میں مفقود ہوتی ہے ، اسی طرح میاں، بیوی کا طلاق یا خلع کے وقوع کے بغیر ایک دوسرے سے جدائی اختیار کر لینے سے بھی شرعا نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، لہذا سائل کا داماد اگر چہ خلع پر دل سے راضی ہو لیکن اگر اس نے خود یا وکیل کے ذریعہ زبانی طور پر یا کا غذات پر دستخط کر کے خلع پر رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو تو مذکور خلع کی ڈگری جاری ہو جانے کے باوجو د سائل کی بیٹی کا نکاح بدستور قائم ہے ، اور سائل کی بیٹی اور اس کا شوہر حسب سابق میاں ، بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم اگر نباہ ممکن نہ ہو تو فریقین باہمی رضامندی سے با قاعدہ خلع یا طلاق بالمال کا معاملہ کر کے رشتہ ختم کرسکتے ہیں۔
کمافی الدرالمختار: وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاقاھ(3/226)
وفی المبسوط للسرخسی: والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود اھ(6/173)
وفی البدائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول اھ(3/145)