کیالڑکی کورٹ سے خلع لینے کے بعد پہلے حیض کے بعد نکاح کر سکتی ہے، اور نکاح نامہ میں طلاق یافتہ کی جگہ کنواری لکھا گیا ہے ؟
سائل نے خلع کے بارے میں کوئی تفصیل ذکر نہیں کی، کہ مذکور خلع رخصتی سے پہلے ہوئی یا بعد میں ؟ اور خلع مذکور لڑکی کے شوہر کی رضامندی سے ہوئی یا اس میں شوہر کی رضا مندی شامل نہ تھی ؟ تاہم اگر شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ طور پر مذکور لڑکی نے خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو چونکہ خلع کی صحت کیلئے شرعاً فریقین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، اس لئے مذکور یکطرفہ عدالتی خلع سے شرعاً مذ کور لڑکی کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ اس ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود اس کا نکاح بدستور قائم ہے، اور ایسی ڈگری کو بنیاد بنا کر اس کا کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں، اور اگر معاملہ کی نوعیت اسکے علاوہ کچھ اور ہو، تو اسکی مکمل تفصیل کے ساتھ سوال دوبارہ بھیج دیا جائے تو ان شاء اللہ اسکے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائیگا۔ جبکہ خلع اگر شرعاً درست منعقد ہو جائے تب بھی عدت کے تین حیض مکمل ضروری ہے اس سے پہلے کسی اور شخص سے نکاح کرنا جائز نہیں -
وفى احكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع إلى قوله وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اھ (3/153)۔
وفي الدر المختار وأما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة . ولا يستحق العوض بدون القبول اھ (3/441)۔
وفي البدائع وأما ركته فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول (ج 3 ص 145)-