السلام علیکم!
حضرت مجھے ایک مسئلہ عرض کرنا ہے،کہ میں آسٹریلیا میں رہتا ہوں،اور یہاں کے گورنمنٹ کی دو آرگنائیزیشن ہے،بورڈ آف امام آسٹریلیا نے منگل کو پہلے روزے کا اعلان کیا ہے،اور جو لوکل رؤیتِ ہلال کمیٹی ہے،وہ آج اعلان کریگی چاند دیکھ کر،کیا میں بورڈ آف امام کے ساتھ روزہ اور عید کرسکتا ہوں؟
واضح ہوکہ رمضان المبارک اور عیدین کے لئے شرعاً رؤیتِ ہلال معتبر ہے،لہذا مذکور بورڈ آف امام آرگنائزیشن کے ممبران نے اگر رؤیت کا اعتبار کیے بغیر فقط حساب وکتاب کے ذریعے رمضان المبارک کا اعلان کیا ہو،جبکہ مذکور رویتِ ہلال کمیٹی اگر باقاعدہ چاند دیکھنے کی بنیاد پر رمضان اور عیدین کا اعلان کرتی ہو،اور گورنمنٹ کی طرف سے انہیں اس کی اجازت بھی ہو، تو ایسی صورت میں رویتِ ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق روزہ اور عیدین کا اہتمام کرنا لازم ہوگا۔
كما في صحيح البخاري: عن نافع عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر رمضان فقال: «لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطرواحتى تروه فإن غم عليكم فاقدروا له» اھ(27/3) ۔۔
وفي الدر المختار: (و) قبل(بلا علة جمع عظيم يقع العلم)الشرعي وهو غلبة الظن (بخبرهم وهو مفوض إلى رأي الإمام من غير تقدير بعدد) على المذهب وفى رد تحته (قوله: وهو غلبة الظن) : لأنه العلم الموجب للعمل لا العلم بمعنى اليقين نص عليه في المنافع وغاية البيان ابن كمال ومثله في البحر عن الفتح وكذا في المعراج وقال القهستاني: فلا يشترط خبر اليقين الناشئ من التواتر كما أشير به في المضمرات لكن كلام الشرح مشير إليه اھ ومراده شرح صدر الشريعة فإنه قال الجمع العظيم جمع يقع العلم بخبرهم ويحكم العقل بعدم تواطئهم على الكذب اھ (388/2)۔
وفي الفتاوى التاتارخانية: يجب صوم رمضان برؤية الهلال او باستكمال شعبان ثلاثين،ولا يجوز تقليد المنجم في حسابه لا في الصوم ولا في الافطار اھ (357/2)۔