حضرت ! میں نے سونے سے پہلے نیت کی تھی صبح کے روزہ کی اور سحری میں نہیں اٹھا ،صبح اٹھ کر میں نے کھانا کھایا ، اب سمجھ نہیں آرہی کہ مجھے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یا روزے رکھنے ہیں؟ مجھے تفصیل سے بتائیں۔
واضح ہو کہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کے بعدجان بوجھ کر بلا کسی عذر کے روزہ توڑنا شرعاً نا جائز اور گناہِ کبیر ہ ہے، اس کی وجہ سے اس دن کے روزے کی قضا کے ساتھ کفارے کے روزے رکھنا ہوتے ہیں ، جن کی تفصیل یہ ہے کہ مسلسل دو ماه روزے رکھے جائیں ، اگر کسی بھی وجہ سے روزہ چھوٹ گیا تو از سر نو دو ماہ کے روز ےرکھنا ہوں گے ، تاہم اگر بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزے رکھنے پر قادر ہی نہ ہو تو اس بیماری کی تفصیل بیان کرکے دوبارہ حکم شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
كما في صحيح مسلم : عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر رجلا أفطر في رمضان أن يعتق رقبة أو يصوم شهرين أو يطعم ستين مسكينا ( باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان على الصائم و وجوب الكفارة الكبرى فيه الخ، ج ٢ ص 782 ، رقم : 1111 ط : مطبعة عيسى الباني)-
و في الفتاوى الهندية إذا أكل متعمدا ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة و هذا إذا أكل مما يؤكل للغذاء أو الدواء الخ ( النوع الثاني ما يوجب القضاء والكفارة ، ج 1، ص 205، ط : ماجدية)-
و فيها أيضا : كفارة الفطر و كفارة الظهار واحدة و هي عتق رقبة مؤمنة أو كافرة فإن لم يقدر على العتق فعليه صيام شهرين متتابعين وإن لم يستطع فعليه إطعام ستين مسكينا كل مسكين صاعا من تمر أو شعير أو نصف صاع من حنطة الخ (المتفرقات، ج 1، ص 215، ط : ماجدية)-