السلام علیکم و رحمۃالله وبركاتہ!
میرا نام وقار احمد خونزادہ ہے،اور میرا تعلق چارسدہ خیبر پختونخواہ سے ہے،میرا سوال یہ ہے کہ میں اسلام آباد میں جاب کرتا ہوں،اور پیر سے جمعہ تک ڈیوٹی ہوتی ہے،اور ویک اینڈ پر آبائی گاؤں چارسدہ جاتا ہوں،جوکہ ٹوٹل 160 سے 170 کلومیٹر فاصلہ آتا ہے ایک سائیڈ سے-
علماء کیا فرماتے ہیں کہ روزہ رکھنا کیسا ہوگا ؟ کیوں کہ قرآن میں سورۃ بقرۃ /آیت نمبر 183/187 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مریض ہو،یاسفر میں ہوتو روزے نہ رکھے،اور بعد میں ان کی تعداد پوری کرے؟ اب جبکہ میں 15 دن سے کم وقت گذارتا ہوں،تو نماز تو میں باجماعت پڑھتا ہوں مقامی امام کے پیچھے،مگر روزے تو انفرادی طور پے رکھے جاتے ہیں،اس لئے اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟ کیوں کہ مجھے کسی نے بتایا ہے کہ اگرآپ روزے رکھیں گے،تو اللہ تعالی کے حکم کی پامالی کروگے،جو قرآن میں درجِ ذیل آیات میں دیا گیا ہے،براہ کرم قرآن و حدیث کے روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟ ایاما معدودات فمن كان منكم مريضاًً أو على سفر فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ اھ (184)۔
سائل اگر اپنی ملازمت کی جگہ پر ایک مرتبہ بھی پندرہ دن یا اس سے زائد عرصہ نہ رکا ہو ، اور نہ ہی پندرہ دن رکنے کی نیت کی ہوتو ایسی صورت میں اگرچہ سائل اپنی ملازمت کی جگہ مسافر کہلائے گا ، وہ اپنی انفرادی نمازوں میں قصر کرے گا،مگر روزوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر مسافر سہولت سے روزہ رکھ سکتا ہوتو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ روزے رکھے،اس فضیلت کو ضائع نہ کرے، لہذا سائل کو جس نے بتایا ہےکہ روزہ رکھنے کی صورت میں گناہ گار ہوگا غلط بتایا ہے۔
كما في رد المحتار:(قوله لمسافر) خبر عن قوله الآتي الفطر وأشار باللام إلى أنه مخير ولكن الصوم أفضل إن لم يضره كما سيأتي (قوله سفرا شرعياً) أي مقدرا في الشرع لقصر الصلاة ونحوه وهو ثلاثة أيام ولياليها وليس المراد كون السفر مشروعا بأصله و وصفه بقرينة ما بعده اھ(2/421) ۔
وفي الدر المختار:(ويندب لمسافر الصوم) الآية {وأن تصوموا} [البقرة: 184]- والخير بمعنى البر لا أفعل تفضيل (إن لم يضره) فإن شق عليه أو على رفيقه فالفطر أفضل لموافقته الجماعة.(فإن ماتوا فيه) أي في ذلك العذر (فلا تجب)عليهم (الوصية بالفدية) لعدم إدراكهم عدة من أيام أخر اھ(2/423) ۔