دوسرے کی جان بچانے کےلئے روزہ توڑنا کیسا ہے؟اگر توڑ دیا تو کیا ہوگاکفارہ دینا ہےیا نہیں ؟
سائل نے یہ نہیں لکھاکہ دوسرے کی جان بچانے کےلئے روزہ توڑنے سے کیا مقصد ہے؟اور روزہ فرض ہے یانفل،تاہم اگر فرض روزہ ہو ، اور ایسی صورت پیش آجائےکہ روزہ نہ توڑنے سے دوسرے کی جان کو خطرہ لاحق ہو،مثلاً ماں اگر بچے کو دودھ نہ پلائے،تو وہ مر جائے گا،تو ایسی صورت میں روزہ افطار کرنا جائز بلکہ لازم ہے، اور اس روزے کی فقط قضا ہے کفارہ نہیں،اور اگر کوئی دوسری صورت ہوتو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کیا جائے۔
کمافي الهندية:(ومنها حبل المرأة وارضاعها)الحامل والمرضع اذا خافتا على أنفسهما أو ولدهما أفطرتا وقضتا ولا كفارة عليهما اھ (1/ 207) -