السلام علیکم ورحمۃ اللہ! مفتی صاحب میں ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہوں، اور اس وقت شدید کرب میں مبتلا ہوں، کیونکہ روزہ رکھنے سے مجھے قبض ہو جاتی ہے اور کلاس میں بیٹھنے میں ذلت کا باعث بن رہی ہے،میں اب کیا کروں، کیا ماہ رمضان میں روزے قضا کرکے چھٹیوں میں رکھ لوں؟ رہنمائی کریں، ہر ممکن علاج کر لیا گیا ہے، خالی پیٹ زیادہ آوازیں آتی ہیں۔جزاک اللہ خیرا
محض اس عذر کی وجہ سے سائل کیلئے رمضان المبارک کے روزے چھوڑنا جائز نہیں۔
کما فی الدرالمختار: فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصوم (الی قولہ) (او مریض خاف الزیادۃ) لمرضہ وصحیح خاف المرض الخ (ج2 صـ422 کتاب الصوم ط: سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قولہ: خاف الزیادۃ) او ابطاء البر او فساد عضو بحر او وجع العین او جراحۃ او صداعا او غیرہ ومثلہ ما اذا کان یمرض المرضی قھستانی ط ای بان یعولھم ویلزم من صومہ ضیاعھم وھلاکھم لضعفہ عن القیام بھم اذا صام (قولہ: وصحیح خاف المرض) ای بغلبۃ الظن کما یاتی، فما فی شرح المجمع من انہ لایفطر محمول علی ان المراد بالخوف مجرد الوھم کما فی البحر والشرنبلالیۃ الخ (ج2 صـ422 کتاب الصوم فصل فی العوارض ط: سعید)۔