السلام علیکم!
میرا نام سید کاظم رضا ہے،اور میرا اہل سنت والجماعت دیوبند سے تعلق ہے،میرا مسئلہ یہ ہےکہ اس سال میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوگیا ہوں،اور رمضان کریم کی آمدبھی قریب ہے،تو برائے مہربانی مجھے بتایا جائےکہ کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی سے بتایئے،میں روزہ رکھ سکتا ہوں ؟ اگر روزہ نہیں رکھ سکا تو کیا کرنا پڑیگا ؟
اگر روزہ رکھنے سے مرض کے بڑھ جانے کا یا جان کا خطرہ ہو،اور کوئی دیندار معالج بھی روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دے رہا ہوتو اس کو چاہیئے کہ روزہ نہ رکھے،بعد میں سال کے ٹھنڈے اور چھوٹے دنوں میں قضا رکھ لے۔
کما فی الدر:( أو مريض خاف الزيادة)لمرضه و صحیح خاف المرضى وخادمة خافت الضعف بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب حاذق مسلم مستور الخ،وفى الشامية:تحت (قوله حاذق) اى له معرفة تامۃ في الطب فلا يجوز تقليد من له ادنى معرفة فيه اھ (2/422) ۔
وفي الهداية:ومن كان مريضاً في رمضان فخاف ان صام ازداد مرضه افطر و قضی اھ (1/221)-