مجھے اٹھائیس رمضان دبئی سے لاہور صبح سویرے سفر کرنا ہے،کیا میں روزہ رکھ سکتا ہوں ؟ اگر نہیں تو کیا بعد میں مجھے کفارہ ادا کرنا ہوگا؟ اور اگر رکھ سکتا ہوں،تو پاکستان میں تیس روزے ہونے کی صورت میں میرے اکتیس روزے گنے جائیں گے؟ رہنمائی فرمائیں ۔
سائل جس دن سفر پر نکلنے کا ارادہ رکھتاہوتو اس کے لئے اسی دن صبح سے روزہ نہ رکھنے کی نیت کرنا،یا روزہ رکھنے کے بعد سفر پر نکلنے سے قبل افطار کرنا تو جائز نہیں،البتہ سفر پر نکلنے کے بعد اگرچہ روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے،تاہم اگر روزہ رکھنے کی طاقت ہو،اور روزہ رکھنے میں کسی قسم کی مشقت بھی پیش نہ آتی ہوتو روزہ رکھنا بہرحال افضل اور بہتر ہے،البتہ سفر کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کفارہ لازم نہیں ہوتا،بلکہ صرف قضا لازم ہوگی،جبکہ پاکستان پہنچنے کے بعد اگر چہ سائل اپنے تیس روزے مکمل کرلے،لیکن اگر یہاں کے حساب سے اگلے دن عید نہ ہوتو سائل کے ذمہ اس دن کا روزہ رکھنا بھی لازم ہوگا۔
کمافى سنن الترمذي:الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون اھ (1/88) ۔
وفي رد المختار:لو صام رای ھلال رمضان واكمل العدة لم يفطر الامع الامام لقوله عليه السلام صومكم يوم تصومون وفطركم يوم تفطرون اھ(2/384) ۔
وفى بدائع الصنائع:واما صوم رمضان فوقته شهر رمضان لا يجوز في غيره فيقع الكلام فيه اما الأول فوقت صوم رمضان شهر رمضان لقوله تعالى:فمن شهد منكم الشهر فليصمه اي فليصم في الشهر وقوله النبي صلى الله عليه وسلم وصوموا شهركم أي في شهركم لان الشهر لا يصام وانما يصام فيه اھ (2/80) ۔
وفيھا ايضاً:هذا اذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا يختلف فيها المطالع فاما اذا كانت بعيدة فلا يلزم احد البلدین حكم الأخرى كان مطالع البلاد عند مسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر اھ (2/225) ۔
وفى الهندية:منها السفر الذي يبيح الفطر وهو ليس بعذر في اليوم الذي انشاء السفر فيه كذا فى الغياثية فلو سافر نهارا لا يباح له الفطر في ذلك اليوم،وان افطر لا كفارة عليه بخلاف ما لو افطر ثم سافر كذا في محيط السرخسي ولو اكل فى أول النهار متعمدا ثم أكرہه السلطان على السفر لا تسقط عنه الكفارة ولو سافر باختياره لا تسقط عنه باتفاق الرويات اھ(1/206) ۔