اگر کوئی لڑکی عدالت سے یکطرفہ خلع لینے کے بعد دوسرا نکاح کرے تو اس کا گناہ سابق شوہر پر بھی ہو گا ؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے صحیح ہونے کیلیے فرقین کی باہمی رضا مندی اور با قاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے، جبکہ عموما یہ شرط عدالتی خلع میں مفقود ہوتی ہے، لہذا مذ کور خلع کی ڈگری اگر یکطرفہ جاری کی گئی ہو تو اس طرح ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود مذکورشخص اور اس کی بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور قائم ہے اوردونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم اگر نباہ ممکن نہ ہو تو فریقین باہمی رضامندی سے با قاعدہ خلع یا طلاق بالمال کا معاملہ کر کے رشتہ ختم کر سکتے ہیں، تاہم ظلم زیادتی شوہر کی طرف سے ہو اور وہ بساتا بھی نہ ہو اور طلاق یا خلع بھی نہ دیتا ہو تو ایسی صورت میں شوہرگناہ گار ہوگا، البتہ شوہر سے باقاعدہ علیحد گی حاصل کئے بغیر دوسری جگہ نکاح کرناناجائزوحرام ہےاورایساکرنے کی صورت میں اس کا گناہ بیوی کے سرہو گااس لئے شوہر کوبھی چاہیے کہ اگروہ اس کوبیوی کی حیثیت سے رکھنےپرآمادہ نہ ہوتوایسی صورت میں اسکوگناہ کی طرف دھکیلنے کے بجائے اپنے نکاح کی بندھن سےآزاد کر دے تا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصہ کر سکے۔
وفی المبسوط للسرخسی رحمه اللہ: (قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. اھ(6/173)
وفی البدائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول اھ(3/145)