بہشتی زیور مولانا اشرف علی تھانویؒ صاحب کی کتاب میں لکھا ہے کہ جس کا نام محمد یا علی ہے ،وہ کسی چیز کا مختار نہیں، اس بارے میں آپ تفصیل سے وضاحت فرمائیں اور اس بارے میں کیا عقیدہ ہے؟
باوجود تتبع و تلاش کے بہشتی زیور میں اس قسم کی عبارت ہماری نظر سے نہیں گزری ، اگر سائل خود بہشتی زیور کے اس حصہ کے صفحہ وغیرہ کی نشاندہی کر دے، تو اس پر بھی غور کیا جا سکتاہے، جبکہ مذکور عبارت اگر موجود بھی ہو تو کسی سے مافوق الاسباب اختیارات کی نفی مراد ہے نہ کہ مطلقاً اختیار کی۔
مسجد میں فضائلِ اعمال کی تعلیم اور درسِ قرآ ن کے سلسلے میں تقابل و ٹکراؤ کی فضا بنانا
یونیکوڈ متفرقات 0