جناب مفتی صاحب السلام علیکم !
ایک خاتو ن نے اپنے شوہر کے خلاف خلع کا مقدمہ دائر کیا , کیونکہ اس کا شوہر اسے نان ونفقہ نہیں دیتا تھا ، نشہ کرتا تھا وغیرہ، عدالت نے شوہر کو متعدد نوٹس بھیجے مگر وہ عدالت میں پیش نہیں ہوا ،پھر عدالت نے بیلف کے ذریعے اسے بلوایا ، تو مقدمہ شروع ہوا جو کہ کافی عرصہ چلتا رہا ،اس دوران کئی جج تبدیل ہوئے ؟ بلآخر ( تاریخ ) کو فیملی کورٹ کا جج (جو کہ ہند و تھا) نے دونوں فریقوں کو بلا کر مصالحت کی کوشش کی مگر خاتون کسی صورت راضی نہیں تھی ساتھ رہنے پر، لہذا جج نے خلع کی ڈگری دے دی ؟ اسکے بعد کیس طلاق کی رجسٹری کے لئے مصالحتی عدالت ( یونین کونسل ) میں گیا، اس عدالت نے بھی وقفے وقفے سے کئی نوٹس شوہر کو بھیجے مگر وہ پیش نہیں ہوا ،بالا آخر تین ماہ بعد یہاں سے طلاق کو رجسٹر کر دیا گیا؟ اس کے بعد خاتون کے سابقہ شوہر نے عدالت کے حکم کے مطابق خاتون کو نان و نفقہ ( بمعہ عدت کی مدت کے) ادا کر دیا ؟ اسکے علاوہ سابقہ شوہر نے خاتون کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا کہ خاتون اسکے پیسے اور سونا گھر سے جاتے ہوئے لئے گئی ہے ،جو کہ وہ عدالت میں ثابت نہیں کر سکا، جناب اب یہ خاتون کہیں شادی کر چکی ہیں کیا یہ شرعی طور پر صحیح ہے ؟ اگر شرعاً یہ خلع اور طلاق واقع نہیں ہوئی تو اب کیا کریں کیونکہ کچھ دن پہلے کسی نے کہا کہ اسطرح طلاق نہیں ہوئی , مہربانی فرما کر جلد جواب عنایت فرمائیں ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کے لئے فریقین کی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر شوہر یا اس کے مقرر کردہ وکیل کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت نے یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردی ہو تو اس ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً دونوں کا نکاح ختم نہیں ہوا , بلکہ بدستور برقرار ہے، لہذا خاتون کا اپنے سابقہ شوہر سے با قاعدہ خلع یا طلاق لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا بھی شرعاً درست نہیں تھا، اس لئے دونوں پر لازم ہیکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لیں اور اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس طرح کے حرام کاموں سے اجتناب کریں اور جس شخص سے مذکور خاتون کا نکاح ہو اتھا اگر اس کو یہ علم نہ تھا کہ یہ کسی کے نکاح میں ہے اور عورت کو بھی عدالتی خلع سے نکاح ختم نہ ہونے کا علم نہ تھا تو اب اس دوسرے شوہر کو الفاظِ متارکہ مثلاً " میں نے تمھیں چھوڑ دیا وغیرہ " کہنا لازم ہے تا کہ عدت ختم ہونے کے بعد خاتون اپنے شوہر کے لئے حلال ہو جائے اور شوہرِ ثانی پر مقررہ مہر بھی لازم ہو گا۔
کما في أحكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما الا برضى الزوجين فقال اصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا الا برضى الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان اھ (2/ 239)
و في رد المحتار: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا، (516/3)-
و في الفتاوى الهندية:لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة (1/280)۔