میری بیوی نے کورٹ سے یکطرفہ خلع لے لی الزامات کی بنیاد پر , جیسا کہ مار پٹائی ، نان و نفقہ نہ دیناکبھی بھی، گھر سے دھکے دیکرمار کر نکالا ، بچہ چھیننا وغیرہ وغیرہ، اور الزامات ثابت بھی نہیں ، اس موقف کے ساتھ کے وکیل نے لکھے ہیں ، کورٹ نے خلع ڈگری کر دی ہے ، کورٹ میں سائل نے آبادی کا کہا اور خلع تسلیم نہیں کرتا، رہنمائی فرمادیں کہ کیا یہ خلع جائز ہے ؟ کیونکہ بیوی اس خلع کو جائز سمجھ رہی ہے، شکریہ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے،جو عموما ً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتا ہے ، اور ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود نکاح نہیں ٹوٹتا بلکہ بدستور بر قرار رہتا ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر سائل یا اسکا وکیل فیصلہ کے وقت حاضر نہ تھا اور عدالت نے سائل کی رضامندی کے بغیریکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کر دی ہو تو اس ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح نہیں ٹوٹا ، بدستور برقرار ہے ، اور سائل کی بیوی با قاعدہ خلع یا طلاق لیے بغیر دوسری جگہ نکاح بھی نہیں کر سکتی۔
کمافی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين, فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف(الی قوله) وکیف یجوز للحکمین ان یخلھمابغیر رضاه ویخرجاالمال عن ملکه اھ (3/153)-
وفی المبسوط للسرخسی: والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.(6/173)-