السلام علیکم!مفتی صاحب! ہمارے گاؤں میں جب کسی کا انتقال ہو جائے ، تو اس کے تدفین و تجہیز اور تیجہ، دسواں، چالیسواں پر لنگر وغیرہ کے تمام اخراجات برادری کے لوگ آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں، کیا یہ عمل درست ہے؟ نیت یہ ہوتی ہے کہ ایصالِ ثواب کے لیے لنگر کا اہتمام ہو جائے ، اور لوگوں کے لیے کھانے کا اہتمام بھی ہو جائے، اخراجات کی رقم اہلِ میت سے نہیں لی جاتی، جبکہ جو لنگر کا اہتمام ہوتا ہے ، وہ میت کے گھر بھیجا جاتا ہے، راہ نمائی فرمائیں !جزاک اللہ خیرا !
واضح ہو کہ مردہ کے ایصالِ ثواب کے لیے مخصوص ایّام میں خیرات وصدقات کرنا، اس میں لوگوں کے لیے دعوت کا اہتمام کرنا ،اور باقاعدہ ایک تقریب کی شکل دینا، پھر اس کو لازم سمجھنا ایسے امور ہیں ، جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ملتا ، اس لیے فقہاءِ کرام نے تیجے ، دسویں اور چالیسویں کو بدعت میں شمار کیا ہے، لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے، البتہ جس گھر میں فوتگی ہو جائے ، تو چونکہ اس گھر کے لوگ غم زدہ ہوتے ہیں، اس لیے اہلِ محلہ اور برادری کے لوگ اگر ہمدردی کے طور پر میت کی تکفین و تجہیز اور میت کے گھر والوں کے لیے ایک دن ایک رات کے کھانے کا بند وبست کریں ، تو بلاشبہ جائز ، بلکہ باعث اجر و ثواب ہوگا۔
ففي حاشية ابن عابدين: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع اھ(2/ 240)
وفيھا ايضا: (قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله - صلى الله عليه وسلم - «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف اھ(2/ 240)واللہ اعلم