خلع کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ خلع اگر کورٹ نے جاری کی ہو اور شوہر نے خلع کے کوئی الفاظ ادا نہیں کیے ہوں ، جیسے " میں نے آپ سے خلع کی " یا " آپ میری طرف سے آزاد ہو " تو کیا خلع کے بعد رجوع کیا جا سکتا ہے ؟ خلع کے کتنے عرصے بعد تک رجوع کیا جاسکتا ہے ؟ خلع کو اگر دس سال ہو گئے ہوں اور اس تمام عرصے میں شوہر بچوں کا خرچہ بھیجتا رہا ہو تو کیا اب بھی رجوع ہو سکتا ہے ؟ مہربانی کر کے ان سوالات کا جواب دیدیں تاکہ میں بیوی بچوں کو لانے کی کوشش کر سکوں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے جو کہ عموماً یکطرفہ عد التی خلع میں مفقود ہوتی ہے، اس لئے عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ بدستور برقرار رہتا ہے، چنانچہ شوہر یا اسکے وکیل نے عدالت میں حاضر ہو کر خلع کے کاغذات پر دستخط نہ کیے ہوں تو مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کی وجہ سے نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور بر قرار ہے ،لہذا دونوں بغیر تجدیدِ نکاح کے دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن اگر شوہر یا اسکے وکیل نے خلع کے کاغذات پر دستخط کر دیے ہوں تو ایسے خلع کی ڈگری کی وجہ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے اور عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہو گی تاہم اگر باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں مگر آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کمافی المبسوط للسرخسی:والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق.(6/173)۔
وفی الھدایہ: " وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به " لقوله تعالى: {فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229] " فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال " لقوله عليه الصلاة والسلام: " الخلع تطليقة بائنة "(2/262)۔