بیوی کی ڈیمانڈ پر طلاق دینا خلع کے زمرے میں آئے گا یا طلاق کے زمرے میں؟ نیز ایک طلاق بھیجنے کے بعد کچھ عرصہ دوسری طلاق نہیں بھیجی , دوبارہ پھر اصرار پر دوسرا اور تیسرا نوٹس بھیجا , کیا یہ خلع کنسڈر کیا جائے گا ؟ اگر خلع ہوا ہے تو واپسی کا کیا طریقہ کار ہے ؟ رہنمائی فرمائیں -
خلع اور طلاق کی نوعیت میں بنیادی طورپر فرق ہوتاہے ، خلع عام طور پر عورت کے مطالبہ پر دیاجاتاہے ، لیکن اس کا طریقہ یہ ہوتاہےکہ شوہر بیوی کو اس کے مطالبہ پر آزاد کرنے کے لئے مثلاً یہ شرط رکھتاہے کہ تمہیں اس آزادی کے بدلے اپنے حق مہر سے دستبردارہونا پڑیگا، اور بیوی شوہر کے اس مطالبہ پر آمادگی ظاہرکرتی ہے، نیز خلع کے لئے طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کیے جاتے بلکہ خلع کا لفظ ہی استعمال کیاجاتاہے ، جس کی وجہ سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوجاتاہے ، جبکہ طلاق اگرچہ بیوی کے مطالبہ پر کیوں نہ دی جائے، لیکن طلاق دیتے وقت اگر حق مہر سے دستبرداری کو شرط قرار نہ دیاجائے ، تو طلاق دینے کے باوجود بھی شوہر کے ذمہ بیوی کے واجب الادا حق مہر کی ادائیگی لازم ہوگی۔