بدعات جنائز

قبرستان کے خشک یا تر درختوں کو کاٹنے کا حکم-جمعرات کو روحیں آنے کی حقیقت ۔

فتوی نمبر :
59126
| تاریخ :
عبادات / جنائز / بدعات جنائز

قبرستان کے خشک یا تر درختوں کو کاٹنے کا حکم-جمعرات کو روحیں آنے کی حقیقت ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے بارے میں کہ (۱) قبرستان میں درختوں کا لگانا، کاٹنا کیسا ہے؟ ایک درخت اگر سوکھ جائے تو کاٹ لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کا استعمال کرنا کیسا ہے؟
(۲) بعض حضرات نے یہ رواج عام بنالیا ہے کہ جمعرات کی شام کو مغرب کے بعد دعاؤں کا سلسلہ شروع کیا ہے اور کہتے ہیں کہ اس شام کو روحیں زمین پر اترتی ہیں، آیا یہ درست ہے یا نہیں کیا ان کا ایسا کرنا، دعا کیلئے جمعرات کی شام کو مخصوص بنالینا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں؟
(۳) مسئلہ یہ ہے کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ اگر قاتل کو قتل کرنے کی وجہ اور مقتول کو قتل ہونے کی وجہ معلوم نہ ہو تو وہ دونوں دوزخی ہیں تو کیا اہل کراچی کے لوگ جو بے گناہ قتل ہورہے ہیں ان پر یہ حدیث صادق آتی ہے یانہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) قبرستان میں درخت وغیرہ لگانا جائز ہے اور قبرستان کی گھاس اور اس کے درختوں کے تروتازہ شاخیں کاٹنا مکروہ ہے، البتہ جو درخت وغیرہ سوکھ جائیں ان درختوں کے کاٹنے کی گنجائش ہے اور اس طرح کے درختوں وغیرہ سے حاصل شدہ آمدنی قبرستان کی ضروریات میں خرچ کردینا چاہئے۔
(۲) مرنے کے بعد کسی روح کا جمعرات یا کسی اور خاص دن میں زمین پر اُترنا شرعاً ثابت نہیں ہے، کیونکہ اول تو سب روحوں کو زمین میں تصرف اور سیر و تفریح وغیرہ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، اورجن روحوں کو اس بات کا اختیار دیا جاتا ہے ان کیلئے بھی یہ لازم نہیں کہ وہ ہر جمعرات یا کسی خاص دن میں زمین میں ضرور اُتریں اور اپنے گھروں میں آئیں، اس لئے اس قسم کا عقیدہ رکھنا بلادلیل ہے شرعاً اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
اور جب روحوں کے زمین پر اُترنے، ان کے تصرف وغیرہ کرنے یا اپنے گھروں میں آنے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں تو اس کو اصل قرار دے کر کسی خاص دن مثلاً جمعرات وغیرہ کو دعا کیلئے مختص کرلینا ایسا عمل ہے جس کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں کہیں ثبوت نہیں، لہٰذا یہ بدعت ہے جس سے احتراز بہرحال واجب ہے۔
(۳) سوال میں جس حدیث شریف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان محض عصبیت کی بناء پر لڑائی ہو حق اور باطل کی تمیز کیلئے نہ ہو، اس لڑائی کے دوران کوئی آدمی کسی ایک طرف سے بھی قتل ہوجائے، قاتل کو اس کے قتل کرنے کی وجہ شرعی معلوم نہ ہو (یعنی جو اس نے قتل کیا ہے کیا شرعاً اس کیلئے یہ قتل کرنا جائز بھی تھا یا نہیں) سوائے عصبیت کے اور اسی طرح مقتول کو بھی سبب شرعی معلوم نہ ہو، اور جب دونوں محض عصبیت کی بناء پر ایک دوسرے کے قتل کرنے کے خواہشمند تھے اور قاتل نے پہل کردی تو یہ اپنے ظالم ہونے کی وجہ سے اور مقتول اُسے قتل کرنے کا ارادہ رکھنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گا۔
حدیث پاک کی مذکورہ بالا تشریح سے معلوم ہوگیا کہ اگر کسی جگہ کے لوگ عصبیت کی بناء پر ایک دوسرے کو قتل کریں تو وہ اس حدیث کی وعید کے تحت داخل ہوں گے، اور عام طور پر جو حالت خراب کئے جاتے ہیں، دہشت گردی کی جاتی ہے اور گولیاں برسائی جاتی ہیں اگر اس دوران گزرنے والا کوئی مسافر کسی گولی کا نشانہ بن جائے اور اس کی موت واقع ہوجائے تووہ اس حدیث کے تحت داخل نہیں ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الہندیۃ: ویکرہ قطع الحطب والحشیش من المقبرۃ فإن کان یابسا لا بأس بہ کذا فی فتاوٰی قاضی خان۔ اھـ(ج:۱، ص:۱۶۷)
(کذلک فی نور الصدور فی شرح القبور: ص:۱۲۵)
و فی المشکوٰۃ: قال رسول اﷲ ﷺ:والذی نفسی بیدہٖ لا تذہب الدنیا حتی یأتی علی الناس یوم لا یدری القاتل فیم قتل؟ ولا المقتول فیم قتل فقیل کیف یکون ذلک؟ قال الہرج، القاتل والمقتول فی النار۔ اھـ(ص:۴۶۲)
وفی التعلیق الصبیح: والحرب والقتل أی یکون بین طائفتین من المسلمین حرب للعصبیۃ وطلب الجاہ فیقتل بعضہم بعضا قولہ لا یدری القاتل فیم قتل بصیغۃ المعلوم ولا المقتول فیما قتل (الٰی قولہ) من غیر تمیز بین المحق والمبطل۔ اھـ (ج:۶، ص:۱۴۴)
(الٰی قولہ) وأما القاتل فلأنہ ظالم وأما المقتول فإنہ أراد قتل صاحبہ وفیہ أن من نوی المعصیۃ یکون اٰثما۔ اھـ (ج:۶، ص؛۱۴۴)وﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59126کی تصدیق کریں
0     689
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مردے پر جنازہ کے بعد عوام میں مروجہ حیلہ اسقاط بلاشبہ بدعت ہے

    یونیکوڈ   اسکین   بدعات جنائز 0
  • جنازے کے بعد اجتماعی دعا ۔ بدعت سے بچنا فرقہ واریت نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   بدعات جنائز 1
  • میت کے گھر کا کھانا تیجہ کرنا ہر جعمرات کو نیاز دینا

    یونیکوڈ   اسکین   بدعات جنائز 0
  • سوئم (تیجا) کا کھانا نہ کھانے پر اگر والد ناراض ہوں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   بدعات جنائز 0
  • جنازے کے بعد دائرہ لگاکر دورِ قرآن(حیلۂ اسقاط)

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • جنازہ کے آگے قرآن لے کر چلنا و دیگر بدعات

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 2
  • پیر کی قبر پر جاکر چراغ جلانے کا حکم

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • فوتگی کے بعد میت کے گھر والوں کے لیے اجتماعی کھانا بنانا

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • جنازہ کے ساتھ چالیس قدم چلنا

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 1
  • زیارت قبور اور جنازہ کے بعد دعا سے متعلق

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • جنازے کے ساتھ قرآن شریف اور گندم لیجانے کی رسم

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • تدفین سے قبل جنازے کے بعد اجتماعی دعا

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 1
  • تعزیت کی شرعی حیثیت اور اس کی مدت

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • تدفین کے بعد حیلۂ اسقاط کا حکم

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • نمازِ جنازہ میں چار کی جگہ امام نے پانچویں تکبیر کہدی - میت پر دوبارہ نمازِجنازہ پڑھنا

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 1
  • نمازِ جنازہ کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • مسنون تعزیت اور اس کی مدت

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • گھر میں عورتوں کو جمع کرکے قرآن خوانی کرنا

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • اہلِ میت کے ہاں تعزیت اور قرآن خوانی و دعا کرنا

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • انتقال کے بعد سات جمعوں تک قرآن خوانی وغیرہ دیگر امور

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • مروجہ حیلہ اسقاط کا حکم

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • شوہر کے علاوہ رشتہ دار کے لۓ تین دن سے زیادہ سوگ منانا

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
  • جنازے کے بعد ، صدقہ خیرات کے نام سے ، پیسے ، کجھور یا کوئی مٹھائی وغیرہ تقسیم کرنا

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 1
  • جنازہ کے بعد ’’دورانِ قرآن‘‘ یعنی قرآن کا دائرہ میں پھرانا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 3
  • عورتوں کا قبرستان میں جانے کا حکم اور قبر بنانے کا طریقہ

    یونیکوڈ   بدعات جنائز 0
Related Topics متعلقه موضوعات