کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ میت کے ورثاء کے پاس عزیز واقارب جب تعزیت کیلئے آتے ہیں تو ہر ایک آدمی ہاتھ اُٹھا کر دعا کراتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاتھ اُٹھاکر دعا کرو تو ہر ایک کا اسی طرح بار بار دعا کرنا اور ہاتھ اُٹھانا خلافِ سنت ہے یا نہیں؟ ازروئے شریعت تعزیت کا سنت طریقہ کیا ہے؟
تعزیت کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ میت کے گھر والوں کے پاس جاکر ان کو تسلی دی جائے اور ان کی دلجوئی اور صبر کی تلقین کی جائے تاکہ ان کا غم ہلکا ہو اور تسکین حاصل ہو اور میت کے حق میں دعائیہ کلمات کہے جائیں اور گاہے گاہے ہاتھ اُٹھاکر بھی دعا کرلی جائے تو ممنوع نہیں بلکہ جائز ہے۔
البتہ اس سلسلہ میں ہاتھ اٹھا اُٹھاکر دعا کرنے کو تعزیت کو جزو قرار دے کر اسے ضروری سمجھنا محض ایک رسم اور بدعت ہے جس سے احتراز لازم ہے۔ وﷲ اعلم!