کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک نمازِ جنازہ سے فارغ ہوکر بیٹھ کر دعا مانگنا جائز اور مستحب ہے، غلط قسم کے لوگ اسے حرام اور بدعت کہتے ہیں، حرام اور بدعت کہنے والے غلط اور وہابی ہیں اور یہ حوالہ پیش کرتے ہیں (مشکوٰۃ شریف: ص۱۳۸۔ ابوداؤد شریف: ص۴۵۶۔ ابن ماجہ شریف: ص۱۰۹۔ مبسوط سرخسی باب غسل ا لمیت: ج۲، ص۶۷) سوال یہ ہے کہ ان کا یہ دعویٰ اور قول صحیح ہے یا غلط؟ شریعت کی رو سے جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
نمازِ جنازہ چونکہ خود دعا ہے اس لئے اس سے فراغت کے فوراً بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنے کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی اس عمل کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے کوئی ثبوت ہے، آنحضرت ﷺ، حضراتِ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، اتباع تابعینؒ نے ایک دو نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں جنازے پڑھے اور پڑھائے ہوں گے مگر کسی سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے نمازِ جنازہ سے فارغ ہونے کے فوراً بعد دعا مانگی ہو یا دعا کیلئے کہا ہو، یہی وجہ ہے کہ حضراتِ فقہائے احناف نے نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنے کو ممنوع اور مکروہ تو کہا ہے مگر جائز یا سنت کسی ایک نے بھی نہیں کہا، چنانچہ فقہائے احناف میں سے بعض کے اقوال مع حوالہ جات کے مندرجہ ذیل لکھے جاتے ہیں۔
چنانچہ امام ابوبکر بن حامد الحنفیؒ فرماتے ہیں:
’’ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ‘‘۔ (محیط باب الجنائز)
امام طاہر بن احمد البخاری الحنفیؒ المتوفی ۵۴۲ھ خلاصۃ الفتاویٰ میں لکھتے ہیں:
’’لا یقوم بالدعاء فی قراۃ القرآن لاجل المیت بعد صلاۃ الجنازۃ وقبلہا‘‘۔ (ج۱، ص۲۲۵)
علامہ ابن نجیم الحنفیؒ لکھتے ہیں:
’’لا یدعوا بعد التسلیم‘‘۔ (ج۲، ص۱۸۳)
ملاعلی قاریؒ اپنی کتاب مرقاۃ شرح المشکاۃ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’ولا یدعوا للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلاۃ الجنازۃ۔ (ج۲، ص۲۱۹)
اس کے علاوہ اور بھی فقہائے کرامؒ نے نمازِ جنازہ کے بعد دعا کو ممنوع کہا ہے، جن کی عبارات کو طوالت کے خوف سے چھوڑدیا گیا۔
اس کے بعد جاننا چاہئے کہ سوال میں مذکور روایات سے نمازِ جنازہ کے بعد اجتماعی دعا پر استدلال کرنا درست نہیں، اس لئے کہ احادیث میں غور کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مذکور حدیث میں اخلاصِ دعا سے مراد جنازہ کے اندر ہی کی دعا ہے نہ کہ نمازِ جنازہ کے بعد کی دعا، اس لئے آپ ﷺ نے اپنے عمل سے واضح کردیا کہ یہ اخلاص فی الدعاء نمازِ جنازہ کے اندر ہی ہونا چاہئے نہ کہ نمازِجنازہ کے فوراً بعد کیونکہ آنحضرت ﷺ سے پوری زندگی میں ایک بار بھی نمازِ جنازہ کے بعد دعا کا ثبوت نہیں۔
ثانیاً: اس لئے کہ یہ معنی حدیث کے روح کے خلاف ہے کیونکہ آپ ﷺ تو یہ تعلیم دینا چاہتے ہیں کہ میت پر تم جنازہ پڑھو تو اس میں نہایت اخلاص سے دعا کرو، یہ مطلب نہیں کہ نمازِ جنازہ تو بغیر اخلاص کے پڑھ لو اور اس کے بعد اخلاص سے دعا کرلو علاوہ ازیں "مدونۃ الکبریٰ" میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’قال فی الصلوٰۃ علی المیت اخلصوہ بدعاء‘‘۔
اس میں صراحت ہے کہ اخلاص سے دعا نماز کے اندر مطلوب ہے۔
ثالثاً: اگر اس روایت کا یہی معنی ہوتا جو سوال میں مذکور ہے، تو جنازہ کے بعد کی دعا کو حضراتِ فقہائے کرامؒ اور خصوصاً احناف خلافِ سنت اور مکروہ کیوں کہتے؟ کیا فقہائے کرام سے یہ جسارت ہوسکتی ہیں کہ وہ آنحضرت کے قول و فعل کو بھی خلافِ سنت و مکروہ کہہ دیں، لہٰذا اس مسئلہ کو عقیدہ قرار دینا اور اسے علماء دیوبند کی طرف منسوب کرنا قطعاً غلط ہے اس قسم کی غلط بیانی سے احتراز لازم ہے۔ وﷲ اعلم بالصواب!