کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
تعزیت کا سنت طریقہ کیا ہے، دریاں بچھاکر بیٹھنا کیسا ہے؟ دعا کیلئے ہاتھ اُٹھانا فرض، واجب، سنت، مستحب، جائز، مکروہ، ناجائز کیا ہے؟ اور ہاتھ نہ اُٹھانے والے پر نکیر، اعتراض، طعنہ، جھگڑا کیسا ہے؟ بینوا بالبرہان توجروا عند الرحمن!
کسی میت کے عزیز واقارب اور متعلقین کا اہلِ میت کے گھر آ کر تعزیت کرنا بلاشبہ ایک مستحب امر ہے، جو جائز اور درست ہے، اور پھر دورانِ تعزیت دعائیہ اور مرحوم کی مغفرت کے کلمات بولتے وقت، ہاتھوں کا اُٹھانا دعا کے آداب میں سے ہے، اور یہ بھی جائز ہے۔
اور اسی طرح بطورِ تعزیت آنے والوں کی تعداد زیادہ ہو، اور مرحوم کا گھر تنگ ہو ،تو کسی دوسرے گھر یا ایسے میدان اور گلی وغیرہ میں اس طرح کا انتظام کرنا کہ، اس کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف اور پریشانی نہ ہوتی ہو ، تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
مگر یہ جو رواج ہے کہ گزرنے والوں کا رستہ وغیرہ روک کر گلیوں میں شامیانے اور ٹینٹ لگائے جانے کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور اس میں جمع ہوکر بجائے تعزیت کے واہی تباہی کی باتیں ہوتی ہیں، اور پھر جاتے وقت تعزیت کے نام پر دعا کی جاتی ہے، اور اسے لازمی سمجھا جاتا ہے اور جو نہ کرے اسے حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ ایسے امور ہیں، جن کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ان سے احتراز لازم ہے۔
ففي البخاري: عن ابی موسیٰؓ قال لما فرغ النبی ﷺ من حنین بعث ابا عامرٍ علی جیش (إلی قوله) فدعا بماء فتوضأ ثم رفع یدیه فقال اللّٰہم اغفر ابی عامر ورائیت بیاض ابطیه اھ (٤١٩/٢)
وفی المرقاۃ: انَّ من أمر علی أمر مندوب وجعله عزمًا ولم یعمل بالرخصة فقد اصاب منه الشیطان من الاضلال فکیف من امر علی بدعة أو منکر اھ(٧٥٥/٢) واﷲ اعلم!