السلام علیکم! اُمید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے، غسلِ جنابت اور عدت کے بارے میں میرے سوالات ہیں، مجھ کو معلوم نہیں کہ میں صحیح کر رہا ہوں یا شیطان کی طرف سے وساوس ہیں؟ غسلِ جنابت کے لۓ سب سے پہلے میں جو عمل کرتا ہوں، وہ یہ ہے:
میں غسل سے پہلے استنجاء کرتا ہوں، اپنی شرمگاہ کو صاف کرتا ہوں، اور پھر اپنے ہاتھ اچھی طرح دھوتا ہوں، اس کے بعد میں بسم اللہ کہتا ہوں، جس کے بارے میں مجھے الجھن ہے کہ اسے عمل شروع کرنے سے پہلے کہنا چاہیۓ یا جب میں وضو شروع کروں؟ میں بسم اللہ کہتا ہوں، اپنے ہاتھ تین بار دھوتا ہوں، تین بار کلی جہاں تک پانی پہنچتا ہو، تین بار ناک میں پانی ڈالتا ہوں، تین بار چہرہ دھوتا ہوں، اسی طرح تین بار بازو کہنیوں تک دھوتا ہوں، اس کے بعد میں اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتا ہوں کہ کوئی بال بھی خشک نہ رہے، پھر میں اپنے جسم پر پہلے دائیں بائیں اور پھر پورے جسم پر پانی ڈالتا ہوں تاکہ کوئی عضو باقی نہ رہےاور اس کے بعد میں اپنے پاؤں دھوتا ہوں، اب جب میں احادیث وغیرہ سنتا ہوں یا پڑھتا ہوں تو ہر عالم مختلف عمل کہتا ہے، میں صحیح بخاری کے اس عمل پر عمل کر رہا ہوں، کیا آپ تصدیق کر سکتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے؟ براہِ مہربانی راہ نمائی فرمائیں کہ میں جب بھی غسل کرتا ہوں الجھن میں ہوں۔ جزاک اللہ
غسلِ جنابت میں غسل کرنے سے پہلے آغاز عمل کی نیت سے زبان سے بسم اللہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن غسل خانہ میں داخل ہونے کے بعد زبان سے بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں اور غسل کے تین فرائض (کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے اور سارے بدن پر پانی بہانے) کے علاوہ باقی امور سنت کے درجے میں آتے ہیں، جبکہ غسل کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اول دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئے، پھر استنجا کرے اور بدن سے نجاست دھو ڈالے ، پھر وضو کرے، پھر پہلے دائیں پھر بائیں طرف اپنے سارے بدن پر تین مرتبہ پانی بہائے، چنا نچہ سائل کو اس کے مطابق غسل کرنا چاہیۓ ۔
وفي الفقه السلامي: وقال الحنفية يسن في الاغتسال اثنا عشر شيئا، الابتداء بالتسمية، والنية، وغسل اليدين إلى الرسغين. وغسل نجاسة لو كانت بانفرادها، وغسل فرجه، ثم يتوضأ كوضوئه للصلاة، فيثلث الغسل ويمسح الرأس، ولكنه يؤخر غسل الرجلين إن كان يقف في محل يجتمع فيه الماء، ثم يفيض الماء على بدنه ثلاثا، ويبتدئ في صب الماء برأسه، ويغسل بعدها منكبه الأيمن، ثم الأيسر، ويدلك جسده اھ (1/535)۔