کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی عورت ناک اور کان میں زیورات پہنتی ہے ، اب زیورات اُتارنے کے بعد ان کے سوراخوں میں وضو وغیرہ کی صورت میں خلال کرنے کا کیا حکم ہے؟واضح ہو کہ بعض عورتیں وضو اور غسل کی صورت میں گیلی تِیلی لے کر خلال کرتی ہیں۔
زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل اُن کے سوراخوں میں پانی پہنچانے کے لۓ گیلی تیلیاں ڈالنے جیسے تکلّفات کی ضرورت نہیں، اس کے بغیر بھی پانی بہانے سے شرعاً غسل درست ہو جائےگا۔
فی حاشية ابن عابدين: (قوله: وثقب انضم) قال في شرح المنية: وإن انضم الثقب بعد نزع القرط وصار بحال إن مر عليه الماء يدخله وإن غفل لا فلا بد من إمراره ولا يتكلف لغير الإمرار من إدخال عود ونحوه فإن الحرج مدفوع. اهـ. (1/ 152)۔
وفی الفتاوى الهندية: وجب تحريك القرط والخاتم الضيقين ولو لم يكن قرط فدخل الماء الثقب عند مروره أجزأه وإلا أدخله ولا يتكلف في إدخال شيء سوى الماء من خشب ونحوه. كذا في البحر الرائق. (1/ 14)۔