کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کے دونوں بازو کٹے ہوئے ہوں تو اس کے لۓ وضو و غسل کا کیا طریقہ کار ہے؟
اگر شخصِ مذکور غیر شادی شدہ ہو اور اس کے دونوں بازو بھی واقعۃً کٹے ہوئے ہوں اور یہ کٹنا بھی کہنیوں سے اوپر یا کندھوں کے متصل ہو اور خود پانی کا استعمال نہ کر سکتا ہو اور وضو وغسل میں کوئی دوسرا آدمی استعانت کے لۓ بھی آمادہ یا موجود نہ ہو تو ایسے شخص کے لۓ بجائے وضو اور غسل کے فقط کسی دیوار وغیرہ کے ساتھ منہ مل کر تیمم کر لینا کافی ہے اور ایسے معذور کے لیے یہی حکمِ شرعی ہے۔
فی حاشية ابن عابدين: (قوله وقيل لا صلاة عليه) اختاره صاحب الدرر في متنه وشرحه فقال قطعت يداه ورجلاه من المرفق والكعب لا صلاة عليه كذا في الكافي، وقيل إن وجد من يوضئه يأمره ليغسل وجهه وموضع القطع ويمسح رأسه وإلا وضع وجهه ورأسه في الماء أو يمسح وجهه وموضع القطع على جدار فيصلي كذا في التتارخانية اهـ(2/ 102)۔
وفی الفتاوى الهندية: مقطوع اليدين من الرسغ يمسح ذراعيه ومقطوع الذراعين يمسح موضع القطع، وإن كان القطع فوق المرفق لا يجب المسح. كذا في محيط السرخسي. (1/ 26)۔
وفی التاتارخانیة: وإن کان القطع من فوق المرفق بان کان من المنکب أو دون ذلك لم یکن علیه مسحه (إلی قوله) إذا لم یبق من یدیه ورجلیه شئ من محل الغسل یمسح وجهه علی الحائط ویصلی اھ (۱/۲۳۰)۔