کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ایک نومولود بچی کا نام ’’آیت‘‘ رکھا جا سکتا ہےیا نہیں؟
اگرچہ کسی بچی کا نام ’’آیت اللہ‘‘ یا محض ’’آیت‘‘ رکھ سکتے ہیں اور اس کے معنیٰ علامت اور نشانی کے آتے ہیں، مگر زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس بچی کا نام کسی صحابیہ کے نام پر رکھا جائے جیسے عائشہ، فاطمہ، خدیجہ ، زینب، جویریہ، ماریہ، اسماء، خنساء، عاتکہ، ام رومان، مدیحہ، ملیحہ، منیرہ، مبشرہ، بشریٰ ، میمونہ، حفصہ، اور حلیمہ وغیرہ۔