نام رکھنے کا حکم

بچی کا نام ’’آیت‘‘ رکھنا

فتوی نمبر :
60790
| تاریخ :
2008-10-07
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

بچی کا نام ’’آیت‘‘ رکھنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ایک نومولود بچی کا نام ’’آیت‘‘ رکھا جا سکتا ہےیا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ کسی بچی کا نام ’’آیت اللہ‘‘ یا محض ’’آیت‘‘ رکھ سکتے ہیں اور اس کے معنیٰ علامت اور نشانی کے آتے ہیں، مگر زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس بچی کا نام کسی صحابیہ کے نام پر رکھا جائے جیسے عائشہ، فاطمہ، خدیجہ ، زینب، جویریہ، ماریہ، اسماء، خنساء، عاتکہ، ام رومان، مدیحہ، ملیحہ، منیرہ، مبشرہ، بشریٰ ، میمونہ، حفصہ، اور حلیمہ وغیرہ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60790کی تصدیق کریں
0     2079
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات