کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ درج ذیل حدیث کو بطور حوالہ پیش کر کے ایک مفتی صاحب نے کھانا کھانے کے بعد میٹھا کھانے کو مسنون قرار دیا ہے۔
’’حضرت عکراش بن ذوہیب فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کے ساتھ ثرید کھایا جس میں چربی کی بڑی چکناہت تھی، پھر اس کے بعد کھجور نوش فرمائی‘‘۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
حضرت وضاحت فرمائیں کہ کیا مندرجہ بالا حدیث سے کسی محدث یا کسی فقیہ نے کھانے کھانے کے بعد میٹھا کھانے کو مسنون قرار دیا ہے اور کیا اس ایک حدیث سے کھانا کھانے کے بعد میٹھا کھانے کو مسنون قرار دینا درست ہے؟
نبی کریمﷺ کا میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرمانا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے، اس بناء پر اگر کوئی شخص ان اشیاء کو سنت سمجھ کر کھائے تو اس کا یہ عمل بلاشبہ باعثِ اجر ہے، مگر اس پسندیدگی کو کھانے سے پہلے یا کھانے کے بعد کے ساتھ بطورِ سنت کے مخصوص کر لینا اور استدلال میں مذکور واقعہ پیش کرنا درست نہیں، جبکہ سوال میں جس حدیث مبارکہ کا ذکر ہے وہ آپﷺ کا عام معمول نہیں، بلکہ ایک اتفاقی امر ہے۔
سنن الترمذي: عن عائشة قالت: كان النبي - صلى الله عليه وسلم - يحب الحلواء والعسل اه (3/ 337)
وفی مشكاة المصابيح: وعن ابن عباس قال: كان أحب الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الثريد من الخبز والثريد من الحيس. رواه أبو داود(2/ 1219)
وفی مرقاة المفاتيح: (والثريد من الحيس) : وهو بفتح الحاء المهملة وسكون التحتية فسين مهملة تمر يخلط بأقط وسمن، والأصل فيه الخلط ومن قول الراجز: التمر والسمن جميعا والأقط الحيس إلا أنه لم يختلط(7/ 2719)
استنجاء کے بعد ہاتھ دھونا - باتھ ٹب کو کھانے، پینے کے امور میں بھی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کے آداب 0