کیا حیض شروع ہونے کے بعد دواؤں کے ذریعے اسے روک کر جماع کیا جا سکتا ہے؟
واضح ہوکہ حیض شروع ہونے کے بعد دوائی کے ذریعہ خون رک بھی جائے ، توبھی عورت کی عادت کے ایام میں اس سے جماع کرنا درست نہیں،بلکہ جب عادت کے ایام پورے ہوں ، تب ہی جماع کرنا درست ہوگا،البتہ اگر حیض آنے سے پہلے ہی دوا کے ذریعہ حیض روک دیا ہو ،تو جب تک خون نہ آئے جماع کرنا درست ہوگا،جبکہ مانع حیض دوا استعمال کرنا مضر صحت ہے،اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہیئے،بلکہ حیض کے ایام میں اگر شوہر کو خواہش ہو ، تو عورت کے پیٹ یا ناف وغیرہ میں اپنا عضو رگڑ فارغ ہوسکتاہے،جبکہ اس دوران عورت کے ہاتھ سے فارغ ہونے کی بھی گنجائش ہے،لہذا مانع حیض دوا استعمال کرنے سے بچنا چاہیئے۔واللہ اعلم