مفتی صاحب! مجھے یہ جاننا ہے کہ "متوفیٰ عنہا زوجہا "یعنی وہ عورت جس کا خاوند فوت ہو گیا ہو ، تو اس کی عدّت کتنے ایّام ہے؟ نیز کسی ضرورت کی بنیاد پر گھر سے باپردہ باہر نکل سکتی ہے یا نہیں؟
۲۔ جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہوا اس کی عدّت چار ماہ دس دن ہے، جبکہ مذکور خاتون دن کو اپنے نان و نفقہ اور دیگر ضروریات(جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو ) کے لیے گھر سے باہر نکل سکتی ہے، بشرطیکہ رات اسی گھر میں واپس آکر گزارے۔
قال اللہ تعالی ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ (البقرة: 234)۔
و فی الهدایة: والمتفوفی عنها زوجها تخرج نهارًا وبعض اللیل ولا تبیت فی غیر منزلها اھ (۳/۴۲۸)
و کذا فی الشامیة (۳/۵۳۶) واللہ أعلم بالصواب
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0