بہت عرصہ سے بیوی اپنے میکے میں رہائش پذیر تھی, اور اب خلع کا مطالبہ کر رہی ہے ، بغیر کسی عذر کے (بیوی کی اپنی من مانی کے حساب سے چلنے کے لئے)-
(1) اگر خلع کے بدلے (طلاقِ بائن) دے دی جائے تو عدت کہاں گزارے گی (طلاق کے وقت عورت میکے میں رہائش پذیر ہے) شوہر کے کرایہ کے گھر پر یا اپنے گھر پر؟
(2) بالفرض بیوی شوہر کے گھر پر رہنے کو راضی نہ ہو تو نان نفقہ کا ذمہ کس کا ہے ؟
(3) بغیر شرعی عذر کے میکے میں رہ کر خلع کا مطالبہ کرنا اور نان نفقہ کا ذمہ د اری شوہر پر ڈالنا درست ہے ؟ براہِ کرم تفصیلی جواب واضح کردیں ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی اگرواقعۃً سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر میکے چلی گئی ہو ،اور سائل کے بلانے کے باوجود نہ آرہی ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں ،بلکہ وہ ناشزہ کہلائیگی اور ” ناشزہ بیوی“ جب تک شوہر کے گھر نہ لوٹے تو شوہر پر اس کا نان نفقہ شرعاً لازم نہیں ہوتا،لہذا سائل پر اپنی ” ناشزہ بیوی“ کا نان نفقہ شرعاً لازم نہیں اور اس کا بلاوجہ خلع کامطالبہ کرنا بھی شرعاً ناجائز اور گناہ ہے،چنانچہ حدیث میں ایسی عورت کے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو عورت بلا کسی وجہ کے ،اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے، لہذا سائل کی بیوی کو چاہئیے کہ اپنے اس غلط طرز عمل سے باز آکر شوہر کے گھر لوٹ جائے ،اور اپنا گھر آباد کرنے کی فکرکرے،تاہم اگر ہر ممکن کوشش کرنے کے باوجود سائل کی بیوی اپنے خلع کے مطالبہ پر بضد ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل اس کو ایک طلاق دے سکتا ہے اور اس صورت میں سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا، البتہ طلاق کی صورت میں عدت شوہر کے گھر گزارنا اس پر لازم ہے،بشرطیکہ عورت کو اپنی عزت اور عفت کےمتعلق اطمینان ہو ،ورنہ دورانِ عدت نان نفقہ کی حقدار نہ ہوگی۔
کما فی سنن الترمذی : المختلعات ھن المنافقات اھ(1226)۔
وفیہ ایضاً : ایما امراۃ سألت زوجھا الطلاق من غیر بأس فحرام علیھا رائحۃ الجنۃ اھ(226/1)-
و فی الھندیۃ : و إن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله و الناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه(1/545)۔
کما فی الدرالمختار : (لا) نفقة لأحد عشر( الی قولہ) و (خارجة من بيته بغير حق) و هي الناشزة حتى تعود (3/575)۔
و فیہ ایضا : (و تعتدان) أي معتدة طلاق و موت (في بيت وجبت فيه) و لا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل ، أو تخاف) انهدامه ، أو (تلف مالها ، أو لا تجد كراء البيت) و نحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه اھ(3/536)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0