جنابِ عالی! درخواست عرض ہے کہ میری بہن کے شوہر محمد سلیم جو کہ کسی حادثہ کی وجہ سے 16/1/2024 کو وفات پاگئے تھے، اُس وقت میری بہن حاملہ تھی ، حمل تین ماہ کا تھا، دورانِ عدت حمل ضائع ہوگیا، اب آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں شریعت کی روشنی میں جواب دیدیں کہ وہ عدت پوری کرے گی یا عدت ختم ہوگئی؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور حمل کے ضائع ہونے کی صورت میں اگر بچے کے اعضاء ( ہاتھ، پیر، ناخن وغیرہ ) کی ساخت ظاہر نہ ہوئی ہو ( جو کہ عموماً چار ماہ مکمل ہونے پر ظاہر ہوتی ہے ) تو ایسی صورت میں مذکور حمل ساقط ہونے سے سائل کی بہن کی عدت مکمل نہیں ہوئی، بلکہ اس پر چار ماہ دس دن عدت لازم ہوگی، بصورت دیگر بچے کے اعضاء کی ساخت ظاہر ہونے کی صورت میں اس کے ساقط ہونے کے ساتھ ہی اس کی عدت مکمل ہو کر ، وہ اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الدر المختار: ( و ) انقضاء ( العدۃ من الاخیر وفاتاً) لتعلقہ بالفراغ ( و سقط ) مثلث السین: أی مسقوط ( ظھر بعض خلقہ کید أو رجل ) أو اصبغ أو شعر، و لا یتبین خلقہ الا بعد مائۃ و عشرین یوماً ( ولد) حکما ( فتصیر ) المرأۃ ( بہ نفساء و الامۃ أم ولد و یحنث بہ ) فی تعلیقہ و تنقضی بہ العدۃ، فإن لم یظھر لہ شیء فلیس بشیء الخ
و فی رد المحتار تحت ( قولہ: أی مسقوط ) الذی فی البحر التعبیر بالساقط و ھو الحق لفظاً و معنی، أما لفظاً فلان سقط لازم لا یبنی منہ اسم المفعول، و اما معنی فلان المقصود سقوط الولد سواء سقط بنفسہ أو اسقطہ غیرہ الخ ( مطلب فی احوال السقط و احکامہ ج 1 ص 302 ط: سعید )۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0