اگر عورت اپنے شوہر سے دور ماں باپ کے گھر ڈیڑھ ماہ سے رہ رہی ہو شوہر طلاق دیدے، طلاق کے وقت عورت کو 2گھنٹےپہلے حیض کی علامت ظاہرہوچکی ہو توعدت کا کیا حکم ہے کس دن سے تصور کی جائے گی اور کب تک؟ جبکہ شوہر کو حیض کا علم نہیں تھا۔
ماہواری کی حالت میں طلاق دینے کی صورت میں اگرچہ شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے، لیکن جس ماہواری میں طلاق دیدی جائے وہ ماہواری عدت کے دورانیہ میں شامل نہیں ہوتی بلکہ اس سے پاکی کے بعد مستقل تین حیض گزرجانے کی صورت میں عدت مکمل ہوگی۔ لہذا صورت مسئولہ میں شوہر نے جس ماہواری میں طلاق دی ہے، تو یہ ماہواری مطلقہ عورت کے عدت میں شامل نہ ہوگی، بلکہ اس سے پاکی کے بعد مستقل تین حیض انتظار کرکے عدت مکمل کرنا لازم ہوگا۔
قال اللہ تعالیٰ: وَالْمُطَلَّقاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ (سورة البقرة، پ:۲)
وفی ردالمحتار:"إذا طلق امرأته في حالة الحيض كان عليها الاعتداد بثلاث حيض كوامل ولاتحتسب هذه الحيضة من العدة، كذا في الظهيرية". (1 / 527ط:دار الفكر)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0