ترجمہ : میرے نا نا سسر کا ا نتقال ہو گیا ہے ، اور نانی ساس جو کہ نانا کی دوسری بیوی ہے وہ عدت میں ہے ، میرا شوہر دن کے بایئس (22) گھنٹے اس کے پاس گزارتے اور بات کرتے ہیں ، میرے منع کرنے پر کہتے ہیں کہ وہ تو میری محرم ہے ، ہماری اس بات پر بہت ناچاقی ہوتی ہے ، اب اس مسئلہ کا کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ سوتیلی نانی محرم ہے ، اور اس سے شرعاً پردہ نہیں ، لہذا سائلہ کے نانا سسر کی دوسری بیوی چونکہ سائلہ کے شوہر کی سوتیلی نانی ہے ، اس لئے اس کا ا پنی نانی کے ساتھ بات چیت کرنے ، اور خیر و عافیت دریافت کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے ، تا ہم ا گر سائلہ کو اس کے متعلق کو ئی شبہ ہو تو اس کی وضاحت کرکے سوال دوبارہ ای میل کردے , اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا ۔
قال اللہ تعالیٰ : {وَ لَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَ مَقْتًا وَ سَاءَ سَبِيلًا} [النساء: 22]۔
و فی التفسير المظهري : المراد بالآباء الأصول بعموم المجاز اجماعا حتى يحرم منكوحة الجد و ان علا سواء كان الجد من قبل الأب او من قبل الام اھ(2 ق 2/ 54)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0